فاروق عبداللہ پر پی ایس اے کا اطلاق: عدالت سے رجوع ہوگی نیشنل کانفرنس

ہم عدالت کو بتائیں گے کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں بغیر کسی جواز کے لوگوں پر پی ایس اے کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ محمد اکبر لون نے کہا کہ فاروق عبداللہ جیسے انسان پر پی ایس اے کا اطلاق کرنے پرمرکزی حکومت کو شرم آنی چاہیے۔

Sep 16, 2019 07:46 PM IST | Updated on: Sep 16, 2019 07:46 PM IST
فاروق عبداللہ پر پی ایس اے کا اطلاق: عدالت سے رجوع ہوگی نیشنل کانفرنس

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ پرپبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیاہے۔ وہ 5 اگست جس دن مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 منسوخ کی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا، کے بعد سے سری نگر میں واقع اپنی رہائش گاہ پر نظربند تھے۔

حکومت نے مبینہ طورپر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کو سب جیل بنایاہے جہاں وہ پی ایس اے کے تحت نظربندرہیں گے۔ فاروق عبداللہ پر پی ایس اے کے اطلاق کے بعد کشمیر انتظامیہ نے پیر کے روزگپکار کی طرف جانے والے روڑ کو سیل کیا اور کسی کو بھی نیشنل کانفرنس صدر کی رہائش گاہ کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔

Loading...

نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق عبداللہ: فائل فوٹو نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق عبداللہ: فائل فوٹو

فاروق عبداللہ پر پی ایس اے کا اطلاق اس وقت کیا گیا جب ایم ڈی ایم کے لیڈر وائیکو نے سپریم کورٹ میں ہیبیس کارپس کی درخواست دائرکر رکھی ہے۔ (عدالتی نظام میں حبس بے جا یا ہیبیس کارپس کی درخواست کے تحت لاپتہ شخص کو عدالت میں پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اگر عدالت میں پیش کرنا ممکن نہ ہوتو یہ بتانا لازمی ہوتا ہے کہ وہ شخص کہاں ہے)'۔بتادیں کہ پی ایس اے کو انسانی حقوق کے عالمی نگراں ادارے 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے ایک 'غیرقانونی قانون' قراردیا ہے۔ اس کے تحت عدالتی پیشی کے بغیر کسی بھی شخص کو کم از کم چھ ماہ تک قید کیاجاسکتا ہے۔ جموں وکشمیر میں اس قانون کا اطلاق حریت پسندوں اور آزادی حامی احتجاجی مظاہرین پر کیاجاتا ہے۔ جن پر اس ایکٹ کا اطلاق کیا جاتا ہے اُن میں سے اکثرکوکشمیر سے باہر جیلوں میں بند کیاجاتاہے۔

نیشنل کانفرنس کے نائب صدرعمرعبداللہ نے رواں برس کے اپریل میں جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ اگر نیشنل کانفرنس کوحکومت ملی تو پبلک سیفٹی ایکٹ کوہٹایاجائے گا۔انہوں نے کہا تھا: 'اگر ہمیں حکومت ملی تو ہم پبلک سیفٹی ایکٹ کو ہٹائیں گے اور پھر کسی بھی ماں کو اپنے بچوں کی تلاش کے لئے جیل خانوں میں نہیں جانا پڑے گا'۔

جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

اس دوران نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر و رکن پارلیمان محمد اکبر لون نے کہا کہ ان کی ماعت پارٹی صدرپرپی ایس اے کے اطلاق کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔انہوں نے کہا: 'معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ پرپبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا ہے۔ پی ایس اے کے اطلاق کا حکومت کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ اگرانہوں نے واقعی فاروق عبداللہ پر پی ایس اے کا اطلاق کیا ہے تو ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ ہم عدالت کو بتائیں گے کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں بغیر کسی جواز کے لوگوں پر پی ایس اے کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ محمد اکبر لون نے کہا کہ فاروق عبداللہ جیسے انسان پر پی ایس اے کا اطلاق کرنے پرمرکزی حکومت کو شرم آنی چاہیے۔ اگر یہاں ہندوستان کا کوئی نام لیوا تھا تو وہ فاروق عبداللہ تھا۔ اگر کسی نے گالیاں کھائی ہیں تو وہ فاروق عبداللہ ہیں۔ آج وہ ڈاکٹرفاروق عبداللہ کو یہ معاوضہ دے رہے ہیں۔ یہ افسوس کی بات ہے'۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا نیشنل کانفرنس کے مزید لیڈروں پر پی ایس اے کا اطلاق کیا جائے گا، محمد اکبر لون کا کہنا تھا: 'ان لوگوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ آئینی طور پر ہم جو کرسکتے ہیں وہ کریں گے'۔

قابل ذکر ہے کہ انتظامیہ نے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے کشمیر میں سبھی علاحدگی پسند لیڈروں و کارکنوں کو تھانہ یا خانہ نظربند رکھا ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کو چھوڑ کر ریاست میں انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے لیڈران کو سرکاری رہائش گاہوں، اپنے گھروں یا سری نگر کے شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کناروں پر واقع سنٹورہوٹل میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

Loading...