உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    National Emblem Row:سینٹرل ویسٹا میں لگے قومی نشانی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، شیروں کے غضبناک اوتار پر اٹھائے سوال

    اشوک استنبھ کو لے کر اپوزیشن نے مودی حکومت پر کیا تنقیدی حملہ۔

    اشوک استنبھ کو لے کر اپوزیشن نے مودی حکومت پر کیا تنقیدی حملہ۔

    New parliament Building National Emblem: اپوزیشن کی جماعتوں نے شیر کی ساخت اور جارحانہ انداز کے لیے حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے جواب میں حکومت نے کہا تھا کہ کافی تحقیق کرنے کے بعد ہی یہ قومی نشان اشوک استمبھ(Ashoka Stambh) نئی پارلیمنٹ بلڈنگ (New Parliament Building) میں نصب کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      New parliament Building National Emblem:پارلیمنٹ کی نئی عمارت پر قومی نشان اشوکا استمبھ کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ سینٹرل وسٹا میں قومی نشان کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ دو وکلاء نے عرضی داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سارناتھ میں رکھی گئی اصل علامت سے یہ مختلف ہے۔ سپریم کورٹ حکومت کو اس میں اصلاح کا حکم دے۔

      ایڈوکیٹ ال دانش رین اور رمیش کمار مشرا کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سنٹرل وسٹا میں بنائے جانے والے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی چھت پر نشان ہندوستانی قومی نشان سے مختلف ہے۔ اس وجہ سے، اس کی تنصیب ہندوستان کے ریاستی نشان (پروہبیشن اگینسٹ ایمپراپر یوز) ایکٹ، 2005 کی خلاف ورزی ہے، جو ہندوستانی نشان کے غلط استعمال کو روکتا ہے۔

      درخواست میں کیا کہا گیا؟
      دونوں وکلا نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کی چھت پر لگائے گئے نشان میں شیر غصے میں نظر آ رہے ہیں۔ ان کے منہ کھلے ہوتے ہیں جن میں تیز دانت نظر آتے ہیں۔ اس میں دیوناگری رسم الخط میں 'ستیہ میوا جیاتے' بھی نہیں لکھا، جو قومی نشان کا ایک لازمی حصہ ہے۔ علامت میں ایسی تبدیلی غلط ہے۔ سپریم کورٹ حکومت کو اس کی اصلاح کا حکم دے۔

      وزیراعظم مودی نے کیا تھا افتتاح
      قابل ذکر بات یہ ہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے سینٹرل وسٹا میں ہندوستانی نشان کا افتتاح کیا تھا۔ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی چھت پر یہ نشان کانسہ کا بنا ہوا ہے۔ اس کا کل وزن 9,500 کلوگرام ہے اور اس کی اونچائی 6.5 میٹر ہے۔ اسے پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے مرکزی فوئر کے اوپر نصب کیا گیا ہے۔ نشان کو سہارا دینے کے لیے تقریباً 6,500 کلوگرام وزنی اسٹیل کا ایک معاون ڈھانچہ بنایا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      بنگال میںEDکے چھاپے، ممتا کے وزیر کے قریبی کے گھر پر ملے20کروڑ،BJPنے کہا’یہ تو بس ٹریلرہے‘

      یہ بھی پڑھیں:
      پسماندہ طبقات کے ساتھ  نفرت کے خلاف اور ہم آہنگی کے لئے کام کرے گی جمعیت علماء ہند

      اپوزیشن پارٹیوں نے شیروں کی بناوٹ کے ئے حکومت کو گھیرا
      اس کے افتتاح کے بعد اپوزیشن کی جماعتوں نے شیر کی ساخت اور جارحانہ انداز کے لیے حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے جواب میں حکومت نے کہا تھا کہ کافی تحقیق کرنے کے بعد ہی یہ قومی نشان اشوک استمبھ(Ashoka Stambh) نئی پارلیمنٹ بلڈنگ (New Parliament Building) میں نصب کیا گیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: