உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش: اسلام میں مردوخواتین کو یکساں حقوق، مساجد میں خواتین کی امامت کو یقینی بنایا جائے

    قومی اقلیتی کمیشن کی رکن سیدہ شہزادی نے مساجد میں خواتین کی امامت کا مطالبہ کیا ہے۔

    قومی اقلیتی کمیشن کی رکن سیدہ شہزادی نے مساجد میں خواتین کی امامت کا مطالبہ کیا ہے۔

    قومی اقلیتی کمیشن کی رکن سیدہ شہزادی نے مساجد میں خواتین کی امامت کے ساتھ مندروں میں بھی خواتین کے ذریعہ پوجا کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سیدہ شہزادی کا کہنا ہے کہ اسلام میں مرد و خواتین کو یکساں حقوق دیئے گئے ہیں، پھر امامت کے معاملے میں مرد کی ہی اجارہ داری کیوں؟

    • Share this:
    بھوپال: اپنے متنازعہ بیانوں سے سرخیوں میں رہنے والی قومی اقلیتی کمیشن کی رکن سیدہ شہزادی نے مساجد میں خواتین کی امامت کے ساتھ مندروں میں بھی خواتین کے ذریعہ پوجا کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سیدہ شہزادی کا کہنا ہے کہ اسلام میں مرد و خواتین کو یکساں حقوق دیئے گئے ہیں، پھر امامت کے معاملے میں مرد کی ہی  اجارہ داری کیوں؟ سیدہ شہزادی کا کہنا ہے کہ ہمیں ہماری سوچ کو بدلنا ہے اور سو سائٹی کو اسے قبول کرنا ہے۔ وہیں مسلم سماجی کارکنان نے سید شہزادی کو اسلام کی تاریخی اور شریعت کو پڑھنے کا مشورہ دیا ہے۔ مسلم خواتین کا کہنا ہے کہ شہزادی بے تکے بیان  دے کر سرخیوں میں رہنا چاہتی ہیں۔
    واضح رہے کہ قومی اقلیتی کمیشن کی رکن سیدہ شہزادی دو روزہ دورے پر مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال آئی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اقلیتی طبقے کی خواتین کے مسائل کو لے کر بھوپال کلکٹریٹ میں میٹنگ کا انعقاد بھی کیا اور جب ان  سے خواتین کی قیادت کی بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ خواتین میں صلاحیت کی کمی نہیں ہے۔ خواتین بہت سے مقامات پر امامت بھی کر رہی ہیں اور قاضی بھی ہیں، لیکن بیشتر مقامات پر ابھی ان کی قیادت کو قبول نہیں کیا جا رہا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ  کو بدلنا ہے اور سوسائٹی کو قبول کرنا ہے۔ جب اسلام میں مرد و عورت کو یکساں حقوق دیئے گئے ہیں تو امامت صرف مرد ہی کیوں کرے عورت کیوں نہیں۔

    قومی اقلیتی کمیشن کی رکن سیدہ شہزادی دو روزہ دورے پر مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال آئی ہوئی ہیں۔
    قومی اقلیتی کمیشن کی رکن سیدہ شہزادی دو روزہ دورے پر مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال آئی ہوئی ہیں۔


    وہیں سماجی کارکن نور جہاں نوری کا کہنا ہے کہ سیدہ شہزادی بے تکے بیان سے مسلم سماج میں بدلاؤ نہیں لانا چاہتی ہیں بلکہ اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنا چاہتی ہیں ۔ انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ جس شہر میں وہ بیان دے رہے ہیں اس شہر پر صدی سے زیادہ عرصہ تک خواتین نے حکومت کی ہے ۔یہ خواتین ریاست کو سنبھالنے کے ساتھ مذہبی امور میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔

    بھوپال کی جتنی تاریخی مساجد ہیں اس کی تعمیر مرد نوابوں کے ذریعہ نہیں بلکہ بیگمات کے ذریعہ کی گئی ہے۔ آج بھی بھوپال میں ایسے بہت سے مقامات ہیں جہاں عالمہ خواتین کی امامت کے فرائض انجام دیتی ہیں۔ شہزادی کو اگر مسلم قوم کی اتنی فکر ہے تو وہ کھرگون میں جن ماؤں کے سر سے ڈوپٹہ چھینا گیا ہے ،وہ مائیں جن کے گھروں کو منہدم کردیا گیا ہے ،وہ مائیں جن کے اولادوں کے بغیر کسی جرم کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے انہیں جیل سے باہر لانے کی کام کریں۔ شہزادی میں اتنی ہمت تو ہے نہیں کہ وہ کھرگون کا دورہ کر سکیں اور وہاں کے تشدد متاثرین کی حقیقی رپورٹ مرکزی اور صوبائی حکومت کو پیش کر سکیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: