اجیت ڈوبھال بولے۔ آرٹیکل 370 خصوصی درجہ نہیں، لوگوں کے ساتھ بھید بھاؤ تھا

قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے جموں وکشمیر میں پاکستان کی طرف سے کی جا رہی مداخلت پر تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Sep 07, 2019 03:16 PM IST | Updated on: Sep 07, 2019 03:49 PM IST
اجیت ڈوبھال بولے۔ آرٹیکل 370 خصوصی درجہ نہیں، لوگوں کے ساتھ بھید بھاؤ تھا

اجیت ڈوبھال: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے جموں وکشمیر میں پاکستان کی طرف سے کی جا رہی مداخلت پر تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 230 پاکستانی دہشت گردوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ جس میں سے کچھ بھاگ گئے ہیں تو کچھ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ جدید سماج کے کئی قانون تھے جو جموں وکشمیر کے لوگوں کو نہیں مل رہے تھے۔ تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا تھا، املاک کے حق سے محروم کر دیا گیا تھا، اس طرح کے 106 قوانین 5 اگست سے پہلے آرٹیکل 370 کا تحفظ لے رہے تھے۔ یہ خصوصی درجہ نہیں تھا، یہ خصوصی بھید بھاؤ تھا‘‘۔

Loading...

ڈوبھال نے کہا کہ ریاست کے 199 پولیس تھانوں میں سے صرف 10 تھانہ علاقوں میں ہی پابندی ہے۔ باقی علاقوں میں کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ ریاست میں 100 فیصدی لینڈ لائن کنکشن چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی ایک بڑی آبادی آرٹیکل 370 کے ہٹنے سے خوش ہے۔ وہ مواقع، معاشی پیش رفت اور روزگار کو لے کر پرامید ہیں۔ صرف کچھ شرارتی عناصر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ڈوبھال نے کہا کہ ’’  فوج کی طرف سے ظلم کئے جانے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ صرف ریاستی ( جموں وکشمیر) پولیس اور کچھ مرکزی دستے عوامی نظم ونسق سنبھال رہے ہیں۔ دہشت گردوں سے لڑنے کے لئے فوج ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی دہشت گردوں سے کشمیریوں کی زندگی کی حفاظت کے لئے پرعزم ہیں، بھلے ہی ہمیں پابندی لگانی پڑے۔ دہشت گردی وہ واحد چیز ہے جو پاکستان کر رہا ہے۔ ڈوبھال نے کہا کہ سرحد کے پاس 20 کلومیٹر کی دوری پر پاکستانی کمیونکیشن ٹاور ہیں ، وہ پیغام بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے بات چیت سنی ہے، وہ یہاں اپنے لوگوں کو بتا رہے تھے کہ کتنے سیب کے ٹرک چل رہے ہیں، کیا آپ انہیں روک نہیں پائیں گے؟ کیا ہم آپ کو چوڑیاں بھیجیں؟

Loading...