உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: نوجوت سنگھ سدھو نے ای ڈی پر لگایا بڑا الزام، کہا- ایجنسیوں کے دباو میں پارٹی چھوڑ رہے ہیں کچھ لیڈر

    Punjab Assembly Elections 2022: فتح سنگھ باجوا کے بی جے پی میں شامل ہونے سے متعلق نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ انہیں کانگریس میں ٹکٹ نہیں مل رہا ہے، اس لئے وہ بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ہمارے پاس بہتر متبادل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لیڈر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور دوسری ایجنسیوں کے دباو میں پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

    Punjab Assembly Elections 2022: فتح سنگھ باجوا کے بی جے پی میں شامل ہونے سے متعلق نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ انہیں کانگریس میں ٹکٹ نہیں مل رہا ہے، اس لئے وہ بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ہمارے پاس بہتر متبادل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لیڈر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور دوسری ایجنسیوں کے دباو میں پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

    Punjab Assembly Elections 2022: فتح سنگھ باجوا کے بی جے پی میں شامل ہونے سے متعلق نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ انہیں کانگریس میں ٹکٹ نہیں مل رہا ہے، اس لئے وہ بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ہمارے پاس بہتر متبادل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لیڈر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور دوسری ایجنسیوں کے دباو میں پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

    • Share this:
      چندی گڑھ: پنجاب کانگریس (Punjab Congress) کے صدر نوجوت سنگھ سدھو (Navjot Singh Sidhu) نے پنجاب میں ’مفت‘ اعلانات کرنے والوں پر تنقید کی ہے۔ نیوز 18 سے خاص بات چیت میں انہوں نے کہا کہ اعلانات اقتصادی حالات کے لحاظ سے کیا جانا چاہئے۔ اس دوران انہوں نے جانچ ایجنسیوں پر بھی پنجاب کے لیڈروں پر دباو ڈالنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔ پنجاب میں 2022 میں الیکشن ہونے ہیں۔ کانگریس امیدواروں کے درمیان ٹکٹ تقسیم کو لے کر مسلسل میٹنگیں کر رہی ہیں۔

      نیوز 18 سے بات چیت میں نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ چہرے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’پنجاب کے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کا چہرہ کون ہوگا۔ کانگریس کو وزیر اعلیٰ چہرے کا اعلان کرنا چاہئے‘۔ پارٹی نے ابھی تک وزیر اعلیٰ چہرے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ریاستی الیکشن کے لئے کانگریس کے وزیر اعلیٰ چہرہ اعلان کرنے کا امکان نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پارٹی اجتماعی قیادت کا انتخاب کرسکتی ہے۔

      فتح سنگھ باجوا کے بی جے پی میں شامل ہونے سے متعلق نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ انہیں کانگریس میں ٹکٹ نہیں مل رہا ہے، اس لئے وہ بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ہمارے پاس بہتر متبادل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لیڈر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور دوسری ایجنسیوں کے دباو میں پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ سابق ہندوستانی کرکٹر ہربھجن سنگھ کے سیاسی ڈیبیو کو لے کر نوجوت سنگھ سدھو نے بتایا، ‘وہ شامل ہوسکتے ہیں، اس کی بھی تصدیق نہیں کرسکتا‘۔

      منگل کو کانگریس رکن اسمبلی فتح سنگھ باجوا اور ہرگوبند پور صاحب سیٹ سے بلوندر سنگھ لڈی مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت کی موجودگی میں بی جے پی میں بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ باجوا کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پرتاپ سنگھ باجوا کے بھائی ہے۔ ان کے علاوہ شرومنی اکالی دل گروتیج سنگھ لدھیانہ، کمل بخشی، مدھومیت جگدیپ سنگھ دھالی وال، راج دیو خالصی اور سابق کرکٹر دنیش مونگیا نے بھی بی جے پی کا دامن تھاما۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: