உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال کی نواب جہاں بیگم نے آبسٹریکٹ آرٹ میں بنایا عالمی ریکارڈ

    بھوپال کی نواب جہاں بیگم نے آبسٹریکٹ آرٹ میں بنایا عالمی ریکارڈ

    بھوپال کی نواب جہاں بیگم نے آبسٹریکٹ آرٹ میں بنایا عالمی ریکارڈ

    بھوپال کی نواب جہاں بیگم نے کیلی گرافی اور آبسٹریکٹ آرٹ میں نہ صرف ہندستان کے لوگوں کو متاثر کیا ہے بلکہ ہار ورڈ ورلڈ ریکارڈ لندن نے ان کی فنکاری پرانہیں اعزاز سے سرفراز کیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: انسان کی قوت ارادی مضبوط ہو اور وہ ایک مشن کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول کے لئے سرگرداں ہو جائیں تو منزلیں خود اس کے قدم کا طواف کرتی ہیں۔ بھوپال کی نواب جہاں بیگم نے کیلی گرافی اور آبسٹریکٹ آرٹ میں نہ صرف ہندستان کے لوگوں کو متاثر کیا ہے بلکہ ہار ورڈ ورلڈ ریکارڈ لندن نے ان کی فنکاری پرانہیں اعزاز سے سرفراز کیا ہے۔
    بھوپال کی نواب جہاں بیگم کو مصوری اور کیلی گرافی کا شوق بچپن سے تھا۔ بچپن کا یہ شوق بڑے ہونے پر جنون میں بدلا اور پھر اس جنون میں جب گھر والوں نے ان کا ساتھ دیا تو ان کے لئے اپنی چاہتوں کا جہاں بنانے کی راہ ہموار ہو گئی۔ نواب جہاں کی خوبی یہ ہے کہ وہ مصوری اور کیلی گرافی کے ساتھ آبسٹریکٹ آرٹ میں اپنا ہنر آزماتی ہیں اور آبسٹریکٹ آرٹ میں ان کے فنکاری دنیا میں سر چڑھ کو بولنے لگی ہے۔
    عام طور پر جب بھی کیلی گرافی اور مصوری کی بات کی جاتی ہے تو لوگ برش اور رنگوں کی بات کرتے ہیں لیکن نواب جہاں بیگم کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی مصوری کے لئے برش کا استعمال نہیں کرتی ہیں بلکہ وہ چاقو کی نوک سے مصوری کرتی ہیں ۔نواب جہاں بیگم پیلٹ چاقو کا استعمال کرتے ہوئے حقیقی گولڈ آبسٹریکٹ آرٹ پینٹنگ اس طرح بناتی ہیں کہ اس میں نظر آنے والا ورک حقیقی سونا نظر آتا ہے ۔نواب جہاں بیگم  کے اس خاص ہنر پر انہیں ریئل گولڈ آبسٹریکٹ پیٹنگ وتھ پیلٹ نائف کے اعزاز سے ہار ور ورلڈ ریکارڈ لندن نے سرفراز کیا ہے۔

    بھوپال کی نواب جہاں بیگم نے کیلی گرافی اور آبسٹریکٹ آرٹ میں نہ صرف ہندستان کے لوگوں کو متاثر کیا ہے بلکہ ہار ورڈ ورلڈ ریکارڈ لندن نے ان کی فنکاری پرانہیں اعزاز سے سرفراز کیا ہے۔
    بھوپال کی نواب جہاں بیگم نے کیلی گرافی اور آبسٹریکٹ آرٹ میں نہ صرف ہندستان کے لوگوں کو متاثر کیا ہے بلکہ ہار ورڈ ورلڈ ریکارڈ لندن نے ان کی فنکاری پرانہیں اعزاز سے سرفراز کیا ہے۔


    نواب جہاں بیگم اپنی کیلی گرافی  اور آبسٹریکٹ آرٹ کی نمائیش ملک و بیرون ملک میں کر چکی ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ کیلی گرافی میں نواب جہاں کا کوئی استاد نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنے مطالعہ  اور ہنر کو اتنا آزمایا کہ دیکھنے والے جب ان کی مصوری کو دیکھتا ہےتو عش عش کر اٹھتا ہے۔ جب انہوں نے دبئی فیراری میں اپنی مصوری پیش کی تو لوگ دیکھتے رہ گئے ۔ نواب جہاں بیگم برطانیہ،آسٹریلیا،سعودی عرب،دبئی ،مالدیپ ابو ظہبی  وغیرہ میں اپنی مصوری کی نمائش کر چکی ہیں ۔ان کی پیٹنگ ممبئی سمروزہ آرٹ گیلری،بھوپال ایرپورٹ، اور بھوپال کے ہوٹل تاج میں بھی نمایاں ہے۔

    نواب جہاں بیگم اپنی کیلی گرافی اور آبسٹریکٹ آرٹ کی نمائیش ملک و بیرون ملک میں کر چکی ہیں۔
    نواب جہاں بیگم اپنی کیلی گرافی اور آبسٹریکٹ آرٹ کی نمائیش ملک و بیرون ملک میں کر چکی ہیں۔


    نواب جہاں بیگم نے نیوز ایٹین اردو سے خصوصی  بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ محنت اور لگن کے بغیر کوئی منزل حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔بچپن سے ہی یایوں کہیں کہ پانچویں کلاس سے ہی مجھے مصوری کا شوق ہوا اور یہ ایسا شوق ہے جسے میں ہر لمحہ جینا چاہتی ہوں۔میں اپنے فن کے ذریعہ اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہوں۔میری تمام پیٹنگ معنی خیز اور گہری ہیں ۔یہ نہ صرف آپ کی آنکھوں میں چمک پیدا کرتی ہیں بلکہ دیکھنے والی کی روح کو بھی تازگی بخشتی ہیں۔میرے اسکیچز اسٹائل تجریدی جدید آرٹ پینٹنگ ہیں  جنہیں میں چاقو کا استعمال کرتے ہوئے بناتی ہوں ۔میں یہاں یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ مسلم لڑکیوں میں صلاحیت کی کمی نہیں ہے ۔بس ضرورت انہیں پلیٹ فارم مہیا کرنے اور صحیح رہنمائی کی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: