உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاراشٹر: نواب ملک نےکہا- شردپوارکی حالت مستحکم، اسپتال سے ڈسچارج

    حال ہی میں شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے این سی پی سربراہ شرد پوار کو 2024 لوک سبھا انتخابات کے لئے وزیر اعظم عہدے کا صحیح چہرہ بتایا تھا۔

    حال ہی میں شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے این سی پی سربراہ شرد پوار کو 2024 لوک سبھا انتخابات کے لئے وزیر اعظم عہدے کا صحیح چہرہ بتایا تھا۔

    شردپوار کی حالت مستحکم ہے، ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کی جانچ کرنے کے بعد ان کی حالت کے مستحکم بتایاہے جس کے بعد آج انہیں اسپتال سے ڈسچارج کردیا جائے گا۔ یہ اطلاع آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی وزیر نواب ملک نے دی ہے۔

    • Share this:
    ممبئی: شردپوار (Sharad Pawar) کی حالت مستحکم ہے، ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کی جانچ کرنے کے بعد ان کی حالت کے مستحکم  بتایا ہے، جس کے بعد آج انہیں اسپتال سے ڈسچارج کردیا جائے گا۔ یہ اطلاع آج یہاں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے قومی ترجمان اور اقلیتی وزیر نواب ملک نے دی ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ شرد پوار کو ڈاکٹروں نے 7 دنوں تک آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے اور 15 دن کے بعد اگر ان کے جسم نے بہتر ساتھ دیا تو دوبارہ آپریشن کیا جائے گا۔ اس لئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے عہدیداران، کارکنان و دیگر تمام خیر خواہان سے التماس ہے کہ پوار صاحب کو مکمل طور پر صحتیاب ہونے کے لئے مکمل آرام کی اشد ضرورت ہونے کی وجہ سے ان سے ملاقات سے پرہیز کریں۔

    نواب ملک نے لوگوں کے تعاون اور پوار صاحب کی طبیعت میں بہتری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
    نواب ملک نے لوگوں کے تعاون اور پوار صاحب کی طبیعت میں بہتری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔


    نواب ملک نے لوگوں کے تعاون اور پوار صاحب کی طبیعت میں بہتری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ واضح رہے کہ این سی پی سربراہ شرد پوار کو پیٹ میں تکلیف کے بعد اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ ان کو گال بلیڈر مسئلہ ہے۔ 80 سالہ شرد پوار کو پیٹ میں تکلیف ہونے کے بعد انہیں 31 مارچ کو ممبئی کے بیچ کینڈی اسپتال میں طبی معائنے کے لئے داخل کیا گیا تھا۔ شرد پوار اور امت شاہ کے درمیان ملاقات کی خبروں کے بعد شردپوار کی طبعیت بگڑنے پر انہیں بریج کنیڈی اسپتال میں بغرض علاج داخل ہوگئے تھے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: