ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہیں نوابینِ اودھ کے وارثین، وظائف اور وثائق نہ ملنے سے مفلسی کی گرفت مضبوط

سیاحت پرکورونا کے منفی اثرات سے وثیقہ داروں کی دشواریاں مزید بڑھ گئی ہیں، رایل فیملی آف اودھ نے اس ضمن میں ایک بار پر حسین آباد ٹرسٹ کے ذمہ داران سے وثیقےکی رقم بڑھانے اور اسے بدستور جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • Share this:
دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہیں نوابینِ اودھ کے وارثین، وظائف اور وثائق نہ ملنے سے مفلسی کی گرفت مضبوط
دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہیں نوابینِ اودھ کے وارثین، وظائف اور وثائق نہ ملنے سے مفلسی کی گرفت مضبوط

لکھنئو: نوابین اودھ کے وہ وارثین کبھی جنہیں اپنے ماضی پر فخر و ناز تھا، آج اپنےحال پر آنسو بہا رہے ہیں، وظیفے اور وثیقے نہ ملنے کے سبب مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ سیاحت پر کورونا کے منفی اثرات سے وثیقہ داروں کی دشواریاں مزید بڑھ گئی ہیں، رایل فیملی آف اودھ نے اس ضمن میں ایک بار پر حسین آباد ٹرسٹ کے ذمہ داران سے وثیقےکی رقم بڑھانے اور اسے بدستور جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رائل فیملی آف اودھ کے نائب صدر نواب جعفر میر عبد اللہ اور اہم رکن مسعود عبداللہ کےمطابق سیاحوں کی آمد و رفت کم ہونے کے سبب تاریخی عمارتوں کی نگرانی کرنے والے عملے کی دلچسپیاں بھی کم ہوئی ہیں، گائڈس اور نوادرات کے شعبوں کے معلمین بھی مایوس و پریشان ہیں، وثیقے دار اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے بار بار گزارشات پیش کر رہے ہیں، ساتھ ہی محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے مرمتی کام کرنے والے کاریگر و راج مستری بھی بڑی حد تک متاثر ہوئے ہیں۔ بالخصوس لکھنئو کی وہ تاریخی عمارات جن کا مذہبی پس منظر بھی ہے، ان کی بے رونقی اور بد انتظامی سے افسردہ اور مایوس ہو کر رائل فیملی آف اودھ کے ذمہ داران نے ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کر سبھی معاملات کو حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


اہم پہلو یہ ہے کہ وثیقے کے نام پر ملنے والی معمولی رقوم کی ادائیگی بھی نہیں ہو سکی ہے۔ وثیقے دار منور جعفری اور اطہر رضوی کے  مطابق انہیں گزشتہ کئے ماہ سے وثیقہ نہیں ملا ہے۔ اطہر رضوی کہتے ہیں کہ بار بار مطالبے کرنے کے بعد بھی وثیقہ نہیں بڑھایا جاتا۔  وثیقے کے نام پرحسین آباد ٹرسٹ کی جانب سے جو رقم ملتی ہے، اس سے چائے پانی کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔ منور جعفری کہتے ہیں کہ یہ کس قدر افسوس ناک ہے کہ ہمارے بزرگوں کے ذریعے تعمیر کرائی گئی عمارات سے حکومت لاکھوں کروڑوں  روپئے کماتی ہے اور ان عمارتوں کے وارثوں کو “بقدر اشک بلبل” اور اونٹ کے منھ میں زیرا “ کے مصداق وثیقے کے نام پر جو چند روپئے دیئے جاتے ہیں وہ اتنے کم ہوتے ہیں کہ کسی کو بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔


نواب مسعود عبد اللہ کہتے ہیں کہ وثیقے کے تمام امور پر غور و خوص کے لئے ایک لکھنئو کے سابق ضلع مجسٹریٹ کی قیادت میں کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، لیکن ابھی تک اس باب میں کوئی اہم پیش رفت نہیں کی گئی ہے۔
نواب مسعود عبد اللہ کہتے ہیں کہ وثیقے کے تمام امور پر غور و خوص کے لئے ایک لکھنئو کے سابق ضلع مجسٹریٹ کی قیادت میں کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، لیکن ابھی تک اس باب میں کوئی اہم پیش رفت نہیں کی گئی ہے۔


نوابین اودھ کے عہد کے فوراً بعد جو رقم وثیقہ داروں کو ادا کی جاتی تھی، اس میں وقت اور مہنگائی کے تناسب سے اضافہ ہونا چاہئے تھا، لیکن مسلسل آوازیں اٹھانے کے بعد بھی مطالبات کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ نواب مسعود عبد اللہ کہتے ہیں کہ وثیقے کے تمام امور پر غور و خوص کے لئے ایک لکھنئو کے سابق ضلع مجسٹریٹ کی قیادت میں کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، لیکن ابھی تک اس باب میں کوئی اہم پیش رفت نہیں کی گئی ہے۔ لوگ وبا، مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہیں، ساتھ ہی سرکاری عملے کی تساہلی اور خاموشی نے بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 19, 2020 06:59 PM IST