ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مہاراشٹر: گورنر کوشیاری کی زبان پر شرد پوار کو اعتراض، وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر جتایا اعتراض

مہاراشٹر (Maharashtra) میں مذہبی مقامات (Religious Places) کو کھولے جانے کو لے کر وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے (CM Uddhav Thackeray) کو لکھے گئے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے خط کی زبان پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار (NCP Chief Sharad Pawar) نے اعتراض ظاہر کیا ہے اور اس سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی (PM Narendra Modi) کو خط بھی لکھا ہے۔

  • Share this:
مہاراشٹر: گورنر کوشیاری کی زبان پر شرد پوار کو اعتراض، وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر جتایا اعتراض
مہاراشٹر: گورنر کوشیاری کی زبان پر شرد پوار کو اعتراض، وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر جتایا اعتراض

ممبئی: مہاراشٹر (Maharashtra) میں مذہبی مقامات (Religious Places) کو کھولے جانے کو لے کر وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے (CM Uddhav Thackeray) کو لکھے گئے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے خط کی زبان پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار (NCP Chief Sharad Pawar) نے اعتراض ظاہر کیا ہے اور اس سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی (PM Narendra Modi) کو خط بھی لکھا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (Nationalist Congress Party) کے سربراہ شرد پوار نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’آئینی عہدوں پر بیٹھے اشخاص کی زبان اور لہجہ ان کے قد کے مطابق ہونا چاہئے۔ شرد پوار نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حادثات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پاس میڈیا میں اپنا جواب جاری کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔


گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ان سے تین وفود نے مذہبی مقامات کو دوبارہ کھولے جانےکا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے خط میں گورنر نے کہا تھا، ’کیا آپ اچانک سیکولر ہوگئے ہیں؟ جس لفظ سے آپ ہمیشہ نفرت کرتے تھے’۔ شرد پوار نے اپنے خط میں لکھا کہ ’میں یہاں یہ بتانا چاہوں گا کہ میں اس بات سے متفق ہوں کہ گورنر کا اس موضوع پر اپنا آزاد خیال اور رائے ہوسکتی ہے۔ میں اس بات کی بھی تعریف کرتا ہوں کہ گورنر کے پاس خصوصی اختیارات ہیں کہ وہ وزیر اعلیٰ کے سامنے اپنے خیالات ظاہر کرسکیں۔ حالانکہ میں میڈیا میں جاری ہوئے گورنر کے خط اور اس میں استعمال کی گئی زبان کو لے کر حیران اور حیرت زدہ ہوں۔




شرد پوار نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کےخط کی باتیں اور اس پر ادھو ٹھاکرے کا جواب لکھتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ کس طرح کہ غلط زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔ آئین کے پریمبل میں سیکولر لفظ سبھی مذاہب کو مساوی ماننے اور اس کے تحفظ کرنے والوں کے لئے جوڑا گیا ہے اور ایسے میں وزیر اعلیٰ کا کام آئین کے اصول وضوابط کو قائم رکھنے کا ہے۔ بدقسمتی کی بات ہےکہ گورنر کے خط سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی پارٹی کے لیڈرکے لئے لکھا گیا ہے۔ مجھے یقینی طور پر یہ لگتا ہے کہ کسی بھی جمہوریت میں گورنر اور وزیر اعلیٰ کے درمیان خیالات کا تبادلہ درکار ہے۔ حالانکہ آئینی عہدوں پر بیٹھے اشخاص کی زبان اور لہجہ ان کے قدکے مطابق ہونا چاہئے۔ حادثات کو دیکھتے ہوئے، وزیر اعلیٰ کے پاس میڈیا میں اپنا جواب جاری کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔ میں موضوع پر وزیراعلیٰ کے فیصلے کی حمایت کرتا ہوں۔

شرد پوار نے آخر میں لکھا کہ اس موضوع پر نہ تو میں نے گورنر سے بات کی ہے نہ ہی وزیر اعلیٰ سے۔ حالانکہ مجھے لگا کہ گورنر کے اعلیٰ آئینی دفتر کے ذریعہ اخلاقیات کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا درد آپ سے اور عوام سے شیئر کرنا چاہئے۔

ادھو ٹھاکرے نے گورنر سے کیا تھا یہ سوال

گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے سیکولرازم کو لےکرکی گئی تنقید کے جواب میں ادھو ٹھاکرے نے سوال کیا تھا کہ کیا بھگت سنگھ کوشیاری کے لئے ہندتوا کا مطلب مذہبی مقامات کو دوبارہ کھولنے سے ہے اور کیا انہیں نہ کھولنے کا مطلب سیکولر ہونا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا، ’کیا سیکولرازم آئین کا اہم حصہ نہیں ہے، جس کے نام پر آپ نے گورنر بنتے وقت حلف لیا تھا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 13, 2020 09:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading