جموں وکشمیرمیں اردواکیڈمی کےقیام کےلئےحکومت پر دباو ڈالا جائے: ڈائریکٹرقومی اردوکونسل کا مشورہ

ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا ہے کہ ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کو اس کےقیام کےلئے سرکار پردباؤ ڈالنا چاہئے۔ ساتھ ہی انہوں نے سابق وزیراعلیٰ اوررکن پارلیمنٹ فاروق عبداللہ کےساتھ بھی اس مسئلے کواٹھایا ہے۔

Jun 20, 2019 10:29 PM IST | Updated on: Jun 20, 2019 10:33 PM IST
جموں وکشمیرمیں اردواکیڈمی کےقیام کےلئےحکومت پر دباو ڈالا جائے: ڈائریکٹرقومی اردوکونسل کا مشورہ

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد: فائل فوٹو

سری نگر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹرشیخ عقیل احمد نے جموں کشمیرمیں اردو اکیڈمی قائم نہ ہونے پراظہار افسوس کرتے ہوئےکہا کہ اردو اکیڈمی کے قیام کے لئے یہاں کے محبان اردو کوآگے آنا چاہئے بلکہ ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کو اس کے قیام کے لئے سرکارپردباؤ ڈالنا چاہئے۔

یو این آئی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کونسل کے ڈائریکٹرنے جموں کشمیر میں اردو اکیڈمی کے قیام کی اہمیت کے حوالے کہا: 'یہاں اردو اکیڈمی کا نہ ہونا باعث افسوس ہے، اس کے لئے یہاں کے محبان اردو کوآگے آنا چاہئے۔ ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کو اس کے قیام کے لئے سرکار پر دباؤ ڈالنا چاہئے'۔ انہوں نےکہا کہ یہ معاملہ میں نے سابق وزیر اعلیٰ اوررکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کےساتھ بھی اٹھایا ہے۔

ڈاکٹرشیخ عقیل احمد نےکہا کہ اردو نہ صرف ہندوستان میں بلکہ جموں کشمیر میں رابطے کی زبان ہے، لہٰذا اس کے فروغ کے لئے کام کرنا ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا: 'اردو ایک ایسی زبان ہے جو نہ صرف ہندوستان میں بلکہ جموں کشمیرمیں بھی رابطے کی زبان ہے، جیسے جموں میں ڈوگری زبان غالب ہے۔

Loading...

قومی اردوکونسل کے ڈائریکٹرنےمزید کہا کہ لداخ میں لداخی اورکشمیرمیں کشمیری زبان کا غلبہ ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ کشمیری ڈوگری سمجھتا ہے، نہ جموں کے لوگ کشمیری سمجھتے ہیں اورنہ لداخ کے لوگ ان دو زبانوں کو سمجھتے ہیں اورنہ ہی ان کی زبان کوکشمیریا جموں کےلوگ سمجھتے ہیں لہٰذا تینوں خطوں کے لوگوں کے لئے اردو کو سیکھنا لازمی ہےانہیں اردوکو فروغ دینے کے لئے پوری کوشش کرنی چاہئے اور تینوں خطوں کے لوگوں کو چاہئےکہ وہ اردو اکیڈمی کے قیام کے لئے سرکار پر دباؤ ڈالیں'۔

Loading...