ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کا خواتین کیخلاف متنازعہ تبصرہ، خواتین کمیشن نے کا کارروائی کاحکم

قومی کمیشن برائے خواتین نے اتر پردیش پولیس سے دلت تنظیم بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کے خلاف سوشل میڈیا پر خواتین پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر سخت کارروائی کرنے کاحکم دیا ہے۔

  • Share this:
بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کا خواتین کیخلاف متنازعہ تبصرہ، خواتین کمیشن نے کا کارروائی کاحکم
بھیم آرمی کےسربراہ چندر شیکھر آزاد کیخلاف خواتین کمیشن کا کارروائی کاحکم

نئی دہلی:  قومی کمیشن برائے خواتین نے اتر پردیش پولیس سے دلت تنظیم بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کے خلاف سوشل میڈیا پر خواتین پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر سخت کارروائی کرنے کاحکم دیا ہے۔ خواتین کمیشن کی چیئرپرسن ریکھا شرما نے جمعہ کے روز اتر پردیش کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ایچ سی اوستھی کے نام مکتوب میں کہا ہے کہ چندر شیکھر آزاد کے خلاف خواتین پر قابل اعتراض اور توہین آمیز تبصرے کرنے کے معاملہ میں متعلقہ دفعات کے تحت سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ فوری ایکشن رپورٹ کمیشن کو ارسال کی جائے۔



خواتین کمیشن نے اس معاملہ کا از خونوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ چندر شیکھر آزاد نے بھیم آرمی کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر خواتین پر قابل اعتراض اور توہین آمیز ریمارکس دیئے ہیں، جو سائبر کرائم سے متعلق قانونی دفعات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ریکھا شرما نے کہا ہے کہ خواتین کمیشن سائبر اسپیس کو خواتین کے لئے محفوظ بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔ لہٰذا ایسے معاملات پر فوری کارروائی کی جانی چاہئے۔ اس خط کی ایک کاپی سپرنٹنڈنٹ پولیس ، سہارنپور کو بھی بھیجی گئی ہے۔

خواتین کمیشن کی چیئرپرسن ریکھا شرما نے جمعہ کے روز اتر پردیش کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ایچ سی اوستھی کے نام مکتوب لکھ کر کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
خواتین کمیشن کی چیئرپرسن ریکھا شرما نے جمعہ کے روز اتر پردیش کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ایچ سی اوستھی کے نام مکتوب لکھ کر کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ بھیم آرمی چیف چندر شکھر آزاد کے ٹوئٹر ہینڈل سے خواتین کے خلاف نازیبا ٹوئٹ کیا گیا ہے، جو سوشل میڈیا پر زبردست طریقے سے وائرل ہو رہا ہے۔ چندر شیکھر آزاد کے اس متنازعہ ٹوئٹ پر مختلف سیاسی لیڈران اور خواتین سماجی کارکنان کی جانب سے زبردست ردعمل سامنے آرہے ہیں۔

نیوز ایجنسی یو این آئی اِن پُٹ کے ساتھ۔

 
First published: Jun 19, 2020 01:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading