ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین 9 ویں دور کی بات چیت بے نتیجہ

تین نئے زراعتی قوانین پر احتجاج کرنے والے کسانوں اور حکومت کے مابین جمعہ کے روز ہونے والی 9 ویں دور کی بات چیت بھی تعطل کو ختم کرنے میں ناکام رہی اب نئے زراعتی قوانین پر کسانوں کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور 19 جنوری کو 12 بجے منعقد ہوگا۔

  • Share this:
کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین 9 ویں دور کی بات چیت بے نتیجہ
کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین 9 ویں دور کی بات چیت بے نتیجہ

نئی دہلی: تین نئے زراعتی قوانین پر احتجاج کرنے والے کسانوں اور حکومت کے مابین جمعہ کے روز ہونے والی 9 ویں دور کی بات چیت بھی تعطل کو ختم کرنے میں ناکام رہی اب نئے زراعتی قوانین پر کسانوں کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور 19 جنوری کو 12 بجے منعقد ہوگا۔ مظاہرین کسانوں کے ساتھ آج ہونے والے مذاکرات میں مرکزي وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر، ریلوے کے وزیر مسٹر پیوش گوئل اور تجارت کے وزير مملکت مسٹر سوم پرکاش نے حصہ لیا، جس میں 40 کسان تنظیموں کے نمائندے حاضر ہوئے۔ ذرائع کے مطابق کسان لیڈران نئے متنازعہ قوانین کی منسوخی کے اپنے اصل مطالبے پر قائم رہے اور قوانین میں ترمیم کرنے سے متعلق حکومت کی پیشکش کو مسترد کردیا۔


راجدھانی دہلی میں مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان ملاقات پوری ہوچکی ہے۔ ایک طرف حکومت قانون میں ترمیم کے لئے تیار ہیں تو دوسری طرف کسان نئے زرعی قانون (New Farm Laws) کو واپس لئے جانے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حالانکہ، حکومت اسے لے کر پہلے ہی اپنا موقف واضح کرچکی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ قانون واپس لیا جانا کوئی متبادل نہیں ہے۔ مرکزی زرعی وزیر نریندر سنگھ تومر نے اس بات کو لے کر کافی امید کا اظہار کیا تھا۔


کسانوں کے ساتھ بات چیت کے بعد نریندر سنگھ تومر نے کہا ’کسان تنظیموں کے ساتھ آج کی بات فیصلہ کن نہیں ہوسکی۔ ہم 19 جنوری کو پھر بات کریں گے’۔ انہوں نے کہا، ’ہم بات چیت کے ذریعہ مسئلے کا حل نکلنے تک پہنچنے کی بات پر بھروسہ رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت سردیوں میں احتجاج کر رہے کسانوں کو لے کر فکر مند ہے’۔


حالانکہ، اس دوران انہوں نے کانگریس پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’کانگریس پارٹی راہل گاندھی کے بیانات اور کاموں پر ہنستی ہے، ان کا مذاق اڑاتی ہے’۔ اس دوران انہوں نے کانگریس کی طرف سے جاری کئے گئے 2019 الیکشن کے انتخابی منشور کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’میں یہ یاد دلانا چاہوں گا کہ اپنے سال 2019 کے انتخابی منشور میں کانگریس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس تبدیفلی کو لے کر آئیں گے۔ اگر انہیں یاد نہیں ہے تو انہیں اپنا انتخابی منشور دوبارہ پڑھنا چاہئے’۔

حراست میں لئے گئے کانگریس لیڈر

دوسری جانب جنتر منتر پر کارکردگی کر رہے کانگریس لیڈروں کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے رونیت سنگھ بٹو، گرجیت سنگھ اوجلا اور ایک دیگر کانگریس رکن اسمبلی کو حراست میں لیا ہے۔ یہ لیڈر طویل وقت سے نئے زرعی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس پولیس کارروائی کو لے کر رکن پارلیمنٹ اوجیلا نے مرکزی حکومت پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا، ’جناب نریندر مودی اور امت شاہ آپ کے ایجنٹس ہمیں گرفتار کرنے جنتر منتر آئے ہیں۔ برائے مہربانی ٹھیک طرح سے سینیٹائز اور صاف کرلیں’۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 15, 2021 08:30 PM IST