உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Kisan Andolan: کیا ختم ہوگا کسانوں کا آندولن؟ آج کسان یونین کرسکتے ہیں فیصلہ

    Kisan Andolan: تینوں نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کی واپسی کے اعلان سے متعلق بل آج پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ پنجاب کے سبھی 32 کسان تنظیموں نے موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے میٹنگ بلائی ہے۔ یہ میٹنگ سنگھو بارڈر پر ہوگی۔ کسان اب گھر واپسی کریں گے، اس پر فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    Kisan Andolan: تینوں نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کی واپسی کے اعلان سے متعلق بل آج پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ پنجاب کے سبھی 32 کسان تنظیموں نے موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے میٹنگ بلائی ہے۔ یہ میٹنگ سنگھو بارڈر پر ہوگی۔ کسان اب گھر واپسی کریں گے، اس پر فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    Kisan Andolan: تینوں نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کی واپسی کے اعلان سے متعلق بل آج پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ پنجاب کے سبھی 32 کسان تنظیموں نے موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے میٹنگ بلائی ہے۔ یہ میٹنگ سنگھو بارڈر پر ہوگی۔ کسان اب گھر واپسی کریں گے، اس پر فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: گزشتہ ایک سال سے چل رہے کسانوں کا آندولن (Kisan Andolan) کب ختم ہوگا، اس کو لے کر آج کسان یونینوں کی اہم میٹنگ ہوگی۔ واضح رہے کہ اسی ماہ وزیر اعظم نریندر مودی (PM Modi) کی طرف سے تینوں نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کو واپس لئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پنجاب کے سبھی 32 کسان تنظیموں نے موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے میٹنگ بلائی ہے۔ یہ میٹنگ سنگھو بارڈر پر ہوگی۔ کسان اب گھر واپسی کریں گے، اس پر فیصلہ ہوسکتا ہے۔

      پنجاب کی کسان تنظیموں کی میٹنگ کو کافی اہم مانا جا رہا ہے۔ خاص طور پر جب سنیکت کسان مورچہ نے زرعی تحریک کو لے کرکہا ہے کہ وہ 4 دسمبر کو آگے کی کارروائی طے کرنے کے لئے میٹنگ کرے گا۔ انگریزی اخبار دی ٹربیون کے مطابق، پارلیمنٹ کے ذریعہ تین زرعی قوانین کو واپس لینے کے بل منظور ہونے کے بعد کچھ تنظیم گھر واپس جانے کے حق میں ہیں۔ ساتھ ہی ایم ایس پی گارنٹی کے مطالبہ پر غور کرنے کے لئے زرعی تنظیموں کے نمائندوں اور سرکاری افسران کی ایک جوائنٹ کمیٹی بنائی گئی ہے۔

      گھر واپس لوٹنا چاہتے ہیں کسان

      ایک کسان لیڈر نے کہا، ’پنجاب تنظیم 4 دسمبر کو ایس کے ایم کی مجوزہ میٹنگ سے پہلے ’آگے بڑھنے‘ یا ’گھر واپس جانے‘ کے بارے میں مستقبل کی حکمت عملی پر عام رضامندی پر پہنچنا چاہتے ہیں‘۔ بی کے یو (ڈکونڈا) کے بوٹا سنگھ نے کہا، ’پنجاب کی تنظیمیں تبادلہ خیال کریں گی کہ انہیں کب گھر لوٹنا ہے، اگر زرعی قوانین کو منسوخ کیا جاتا ہے اور کسانوں کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جاتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے، تو ایس کے ایم آگے کی کارروائی طے کرے گا۔ بی کے یو (راجے وال) کے پرگٹ سنگھ نے کہا کہ میٹنگ فیصلہ کن ہوگی، لیکن آخری فیصلہ ایس کے ایم 4 دسمبر کو کرے گا‘۔

      اتفاق رائے سے ہوگا فیصلہ

      ایس کے ایم لیڈر اندرجیت سنگھ نے کہا کہ ایس کے ایم کی میٹنگ سے پہلے پنجاب اور ہریانہ کی دونوں الگ الگ میٹنگیں کرتے تھے۔ حالانکہ آخری فیصلہ ایس کے ایم کے ذریعہ اتفاق رائے سے لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’ہریانہ کی تنظیم بھی ایس کے ایم کی میٹنگ سے پہلے 4 دسمبر کی صبح میٹنگ کریں گے‘۔

      اب کیا ہے کسانوں کا مطالبہ؟

      واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے بعد کابینہ میں بھی تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کی منظوری مل چکی ہے، لیکن کسان ابھی بھی دہلی کی سرحدوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ کسان چاہتے ہیں کہ انہیں ایم ایس پی کی گارنٹی دی جائے۔ ساتھ ہی جن کسانوں نے آندولن میں اپنی جان گنوائی ہیں، انہیں معاوضہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ ان کی یاد میں مجسمہ بنایا جائے۔ جن کسانوں پر مقدمے درج کئے گئے، ان کو واپس لیا جائے، ان مطالبات پر کسان ابھی بھی دہلی سرخد پر مسلسل ڈٹے ہوئے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: