உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نئی نسل، تعلیمی مسائل اور حکومت کی پالیسیاں، ہرفرد کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے کئے جائیں اقدامات

    نئی تعلیمی پالیسی سے متعلق معاشرے میں بھی بہت منفی ومثبت بحث کے ذریعہ کچھ لوگ 34 سال بعد آنے والی نئی تعلیمی پالیسی کا استقبال کر رہے تھے، کچھ اس پرتنقید کر رہے تھے تو کچھ لوگ مزید وضاحت کے مطالبے بھی کررہے تھے، لیکن جگدیش گاندھی کے مطابق اچھی تعلیم وہ ہے جو نئی نسل میں خود اعتمادی اورثابت قدمی پیدا کرے۔اسی لئے انہوں نے جاری کی گئی نئی تعلیمی پالیسی کا استقبال کرتے ہوئے اس کی ستائش کی تھی۔

    نئی تعلیمی پالیسی سے متعلق معاشرے میں بھی بہت منفی ومثبت بحث کے ذریعہ کچھ لوگ 34 سال بعد آنے والی نئی تعلیمی پالیسی کا استقبال کر رہے تھے، کچھ اس پرتنقید کر رہے تھے تو کچھ لوگ مزید وضاحت کے مطالبے بھی کررہے تھے، لیکن جگدیش گاندھی کے مطابق اچھی تعلیم وہ ہے جو نئی نسل میں خود اعتمادی اورثابت قدمی پیدا کرے۔اسی لئے انہوں نے جاری کی گئی نئی تعلیمی پالیسی کا استقبال کرتے ہوئے اس کی ستائش کی تھی۔

    نئی تعلیمی پالیسی سے متعلق معاشرے میں بھی بہت منفی ومثبت بحث کے ذریعہ کچھ لوگ 34 سال بعد آنے والی نئی تعلیمی پالیسی کا استقبال کر رہے تھے، کچھ اس پرتنقید کر رہے تھے تو کچھ لوگ مزید وضاحت کے مطالبے بھی کررہے تھے، لیکن جگدیش گاندھی کے مطابق اچھی تعلیم وہ ہے جو نئی نسل میں خود اعتمادی اورثابت قدمی پیدا کرے۔اسی لئے انہوں نے جاری کی گئی نئی تعلیمی پالیسی کا استقبال کرتے ہوئے اس کی ستائش کی تھی۔

    • Share this:
    لکھنؤ: کہا جاتا ہے کہ تعلیم کے بغیرکوئی معاشرہ، کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا، کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہرگھر میں علم کی روشنی پہنچائی جائے، ہر بچے کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے خصوصی  بندوبست کئے جائیں۔ لکھنئو کے معروف دانشور، امن کے نمائندہ اور ماہر تعلیم جگدیش گاندھی کہتے ہیں کہ دنیا میں انہی ممالک نے زیادہ ترقی کی ہے، جنہوں نے معیاری تعلیم سے اپنی نئی نسل کو ہم آہنگ کیا ہے، انہیں حصول تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کئے ہیں۔

    نئی تعلیمی پالیسی سے متعلق معاشرے میں بھی بہت منفی ومثبت بحث کے ذریعہ کچھ لوگ 34 سال بعد آنے والی نئی تعلیمی پالیسی کا استقبال کر رہے تھے، کچھ اس پرتنقید کر رہے تھے تو کچھ لوگ مزید وضاحت کے مطالبے بھی کررہے تھے، لیکن جگدیش گاندھی کے مطابق اچھی تعلیم وہ ہے جو نئی نسل میں خود اعتمادی اورثابت قدمی پیدا کرے۔اسی لئے انہوں نے جاری کی گئی نئی تعلیمی پالیسی کا استقبال کرتے ہوئے اس کی ستائش کی تھی۔

    جگدیش گاندھی مانتے ہیں کہ اس نئے تعلیمی طریقۂ کار کی خوبی یہ ہے کہ اس سے غریب بچوں کے لئے آسانیاں پیدا ہوجائیں گی۔ ساتھ ہی تعلیمی ڈھانچہ مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی قدیم تہذیب اور ثقافت کا فروغ بھی یقینی ہوجائے گا۔ جگدیش گاندھی نے نئی تعلیمی پالیسی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس یقین کا اظہاربھی کیا تھا کہ جیسے جیسے وقت آگے بڑھے گا، تعلیمی پالیسی میں بھی حالات و ضرورت کے مطابق تبدیلیاں ہوتی رہیں گی۔ ہم کوشش کریں گے کہ جن مقاصدکے حصول کے لئے یہ پالیسی منظم کی گئی ہے، ان کی تکمیل کر سکیں۔ ساتھ ہی بچوں میں مادری زبان اور ہماری تہذیب کے تئیں دلچسپیاں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ایسی تربیت بھی کی جاسکے، جس سے وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے بچوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں۔ ایک طویل عرصے سے تعلیمی خدمات انجام دے رہے، تعلیم کے قومی اور بین الاقوامی منظر نامے پر نظر رکھنے والے ڈاکٹر شِشر شریواستو کہتے ہیں کہ لوگوں نے حصول تعلیم کا مقصد صرف تعلیم کی بنیاد پر روزگار حاصل کرنے کو سمجھ لیا ہے جبکہ اس کا اصل مقصد آدمی کو انسان بنانا ہے، کسی بھی تعلیمی پالیسی کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ششرشریواستو کہتے ہیں کہ جگدیش گاندھی جی نے اس پالیسی کے بارے میں جو کچھ بھی کہا ہے  ہم بھی وہی محسوس کررہے ہیں۔ کیونکہ گاندھی جی کی پوری زندگی میدان علم و عمل میں ہی گزری ہے اور سچائی یہی ہے کہ اگر اس پالیسی کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاتا رہا تو بہتر نتائج سامنے آئیں گے، ہماری کوشش رہے گی کہ گاندھی جی کی سربراہی اور قیادت میں ایسی تعلیمی پالیسی کا نفاذ ہوسکے جس سے آنے والی نسل دنیا کے سامنے سر اٹھاکر اور نظر ملاکر جی سکے۔ ہمارے ملک کےبچے احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں، کئی مدارس کے منتظم کار، بھی یہی مانتے ہیں کہ اچھی تعلیم کا بنیادی مقصد لوگوں کو انسان بنانا ہے۔ انہیں ایسی تعلیم فراہم کرنا ہے، جس سے وہ نفرت اور جہالت کے اندھیروں سے نکل کرمحبت  اورترقی کی روشنی کے ہم سفر ہوجائیں۔ ڈاکٹر جگدیش گاندھی کے مطابق اگر ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں بچوں کو محبت اور انسانیت کی تعلیم دی جائے گی تو یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ہماری نئی نسل اور ہمارے ملک کو دنیا کی کوئی سازش اور کوئی طاقت شکست نہیں دے سکے گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: