உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مودی کے دوبارہ پی ایم بننے کی راہ روک سکتا ہے ایس پی- بی ایس پی اتحاد: سروے

    وزیراعظم نریندر مودی: فائل فوٹو

    وزیراعظم نریندر مودی: فائل فوٹو

    اترپردیش میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا گٹھ بندھن نریندر مودی کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کی راہ میں بڑا روڑا بن سکتا ہے

    • Share this:
      اترپردیش میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا گٹھ بندھن نریندر مودی کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کی راہ میں بڑا روڑا بن سکتا ہے۔ دراصل ہندوستانی سیاست میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ دہلی کا راستہ لکھنئو سے ہو کر گزرتا ہے اور اے بی پی نیوز-سی ووٹر کا سروے بھی اسی بات پر مہر لگاتا نظر آرہا ہے۔
      اے بی پی نیوز-سی ووٹر کے سروے کے مطابق، اگر ریاست میں ایس پی اور بی ایس پی کا اتحاد نہیں ہو پاتا تو این ڈی اے کو عام انتخابات میں 291 سیٹیں مل سکتی ہیں، جو کہ اکثریت سے 19 زیادہ ہوں گی۔ حالاںکہ دونوں پارٹیوں کا گٹھ بندھن  قائم رہتا ہے تو 534  رکنی لوک سبھا میں این ڈی اے کی سیٹیں کم ہو کر 247 رہ جائیں گی۔ اس صورتحال میں اسے اکثریت کے لئے 25 اور اراکین پارلیمنٹ کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔
      بتا دیں کہ 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی کی شاندار جیت میں یو پی کا اہم حصہ تھا، جہاں پارٹی نے 80 میں 71 لوک سبھا سیٹیں جیتی تھیں۔ وہیں اس نئے سروے کے مطابق اگر آج انتخابات ہوتے ہیں تو اترپردیش میں ایس پی-بی ایس پی اتحاد 50 سیٹیں جیت سکتی ہے، وہیں بی جے پی کو محض 28 سیٹوں سے مطمئن ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس حساب سے اسے 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے مقابلہ 43 سیٹوں کا نقصان ہوتا نظر آرہا ہے۔
      اس سروے کی ایک اور غور کرنے والی بات یہ رہی کہ اس میں اوڈیشہ کی 21 میں 15 لوک سبھا سیٹیں بی جے پی کے کھاتے میں جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ وہیں مہاراشٹر اور تمل ناڈو میں یو پی اے کو اچھی کامیابی ملنے کی امید جتائی گئی ہے۔
      First published: