உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Vaccination Policy: آج سے 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو مفت ملے گی نئی ویکسین، نئی پالیسی کے بارے میں جانیں ہر تفصیل

    علامتی تصویر

    نئی پالیسی میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کورونا ویکسینیشن کے لئے پرائیویٹ اسپتال اب منمانی قیمت نہیں وصول کر پائیں گے۔ مرکز نے پرائیویٹ اسپتالوں میں ویکسین کی زیادہ سے زیادہ قیمت طے کردیا ہے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: پورے ملک میں پیرکے روز سے نئی ویکسینیشن پالیسی (New Corona Vaccination Policy) نافذ ہونے جا رہی ہے۔ نئی پالیسی میں 18 سال سے 44 سال کے عمر کے لوگ سیدھے طور پر ویکسینیشن سینٹر پر جاکر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ پہلے 18 سال سے 44 سال کے لوگوں کو ویکسین لگوانے کے لئے کوون (CoWIN) پورٹل سے تقرری لینے کی ضرورت ہوتی تھی۔ نئی پالیسی کے مطابق مرکز اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ 18 سال سے زیادہ عمر کے سبھی لوگوں کو مفت ویکسین لگے گی۔ ابھی مرکز 45 سال سے نیچے کے لوگوں کو ویکسین نہیں لگا رہی تھی۔ ریاستی حکومت اور پرائیویٹ اسپتال لگا رہے تھے۔

    نئی پالیسی میں واضح طور پرکہا گیا ہے کہ کورونا ویکسینیشن کے لئے پرائیویٹ اسپتال اب منمانی قیمت نہیں وصول کر پائیں گے۔ مرکز نے پرائیویٹ اسپتالوں میں ویکسین کی زیادہ سے زیادہ قیمت طے کردیا ہے۔ 780 روپئے کووی شیلڈ کی ایک ڈوز کے لئے دینی ہوگی۔ جبکہ اسپوتنک کے لئے 1145 روپئے اور کوویکسین کے لئے 1410 روپئے پرائیویٹ اسپتال لے سکیں گے۔

    نئی پالیسی میں 18 سال سے 44 سال کے عمر کے لوگ سیدھے طور پر ویکسینیشن سینٹر پر جاکر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
    نئی پالیسی میں 18 سال سے 44 سال کے عمر کے لوگ سیدھے طور پر ویکسینیشن سینٹر پر جاکر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔


    ویکسین سپلائی کے لئے طے کیا پیمانہ

    ویکسینیشن پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے ٹیکے کی سپلائی کے لئے بھی کچھ پیمانے طے کئے ہیں، جس میں ریاست کی آبادی، کورونا انفیکشن کے پھیلنے کی صورتحال، ویکسینیشن پروگرام کی پیش رفت اور ویکسین کی بربادی کا خیال رکھا جائے گا۔ 75 فیصد ٹیکہ ویکسین بنانے والی کمپنیوں سے مرکز خریدے گی اور باقی 25 فیصد کمپنیاں پرائیویٹ اسپتالوں کو ویکسین بیچ سکیں گی۔ پیر سے مرکزی حکومت کے اسپتالوں میں بھی 18 سال سے اوپر کے لوگوں کو ویکسین لگنی شروع ہوگی۔

    ویکسینیشن کی رفتار میں ہوگا اضافہ

    مانا جارہا ہے کہ نئے ضوابط نافذ ہونے پر ویکسینیشن کی رفتار میں اضافہ ہوگا، کیونکہ کئی ریاستوں کی شکایت تھی کہ انہیں ویکسین کم مقدار میں مل رہی ہے۔ ویکسین بنانے والی کمپنیوں سے ویکسین کا کوٹہ نہیں مل پا رہا تھا، لیکن اب مرکز ویکسین کی خرید سے لے کر اس کی تقسیم کی ذمہ داری سیدھے پطور پر مرکز کے پاس ہوگی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: