உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیوز 18 رائزنگ انڈیا سمٹ : ہندوستان بن سکتا ہے سپر پاور ، مگر چین سے بڑھانی ہوگی دوستی

    ہندوستان میں 2013 تک سپر پاور بننے کے بے پناہ امکانات پوشیدہ ہیں ، لیکن یہ بات اسی وقت ممکن ہوسکے گی جب ہندوستان چین کے ساتھ توازن برقرار رکھے۔

    ہندوستان میں 2013 تک سپر پاور بننے کے بے پناہ امکانات پوشیدہ ہیں ، لیکن یہ بات اسی وقت ممکن ہوسکے گی جب ہندوستان چین کے ساتھ توازن برقرار رکھے۔

    ہندوستان میں 2013 تک سپر پاور بننے کے بے پناہ امکانات پوشیدہ ہیں ، لیکن یہ بات اسی وقت ممکن ہوسکے گی جب ہندوستان چین کے ساتھ توازن برقرار رکھے۔

    • Share this:
      ہندوستان میں 2013 تک سپر پاور بننے کے بے پناہ امکانات پوشیدہ ہیں ، لیکن یہ بات اسی وقت ممکن ہوسکے گی جب ہندوستان چین کے ساتھ توازن برقرار رکھے۔ سی این این کے رائزنگ انڈیا سمٹ میں شامل ہونے والے سبھی لوگوں کا یہی خیال ہے۔
      سابق سفارت کار کے سی سنگھ ، ٹی سی اے راگھون اور سابق ہندوستانی فوجی سربراہ جنرل وی پی ملک تینوں اس بات سے متفق تھے کہ ہندوستان کو سپر پاور بننے کیلئے اپنی صورتحال کو مضبوط کرنا ہوگا اور اپنے پڑوسیوں بالخصوص چین کے ساتھ سبھی معاملات کا حل نکالنا ہوگا۔
      مسٹر سنگھ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہندوستان ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ جاری بھی رہے گی ، لیکن ہندوستان کے عروج کے بارے میں خوفزدہ کرنے والی بات یہ ہے کہ چین بھی اسی رفتار اور طاقت کے ساتھ ابھر رہا ہے ۔ 19 ویں صدی کے یوروپ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بھی یوروپ میں دو پڑوسی ابھرتی ہوئی طاقتوں نے ایک دوسرے کا متبادل بننے کی کوشش کی تو کافی مشکلات کھڑی ہوگئیں۔
      دوسری پریشانی انہوں نے یہ بتائی کہ گلوبل گورننس کے ادارے جیسے اقوام متحدہ اور عالمی بینک وغیرہ کا ڈھانچہ ہندوستان اور چین کی ابھرتی ہوئی پریشانیوں سے نمٹنے کیلئے موزوں نہیں ہے ، کیونکہ یہ ادارے دوسری عالمی جنگ کے فاتحین کے ذریعہ بنائے گئے تھے ۔ اس معاملہ میں ایک غیر یقینی صورتحال ہے کہ کیا ہندوستان اور چین ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں۔
      وزیر اعظم مودی کی خارجی پالیسی کی بابت بات کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ دو ممالک کے درمیان تعلقات اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں ، جب تسلسل برقرار رہتا ہے اور اس میں وقت لگتا ہے ، اس لئے جو فائدہ آج نظر آرہا ہے ، وہ کئی سالوں کی کوشش ہے ۔ دیگر لیڈروں کے ساتھ تعلقات بنانے کی مودی کی کوششوں سے مدد مل سکتی ہے ، لیکن حقیقی سوال یہ ہے کہ کیا وہ مستقبل میں طویل عرصہ تک مدد کرپائیں گے ۔ انہوں نے مشرق وسطی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال ہمیشہ یکساں نہیں رہتی ہیں۔
      راگھون کے مطابق یہ ضروری نہیں ہے کہ ہندوستان اور چین دونوں کے آگے بڑھنے سے صرف مخاصمت کی صورت پیدا ہوا ، بلکہ تعاون بھی بڑھ سکتا ہے۔ حالانکہ ان کے مطابق بڑھتے ہندوستان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ دیگر طاقتوں کے سامنے کیسے کھڑا رہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کیلئے سب سے بڑا بنیادی چیلنج ہے کہ ہندوستان زمینی سطح پر دکھنے والی اقتصادی ترقی کو کیسے برقرار رکھے ؟ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو سپر پاور بننے کیلئے ضروری ہے کہ بیرونی تجارتی توازن ، گھریلو بنیادی ڈھانچہ اور دفاع کے شعبہ میں ملکی تکنیک اور خود کفالت کو فروغ دیا جائے ۔
      دوسری جانب ملک کے مطابق ہندوستان اور چین کے درمیان ٹکراو ضروری نہیں ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک میں کشیدگی کی صورت ان سلجھی سرحدوں کی وجہ سے ہے ۔ اگر سرحدی تنازع حل کرلیا جاتا ہے تو دونوں ممالک امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
      First published: