ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

سوشل میڈیا پر امرناتھ یاترا کی بس حادثے کی خبر بے بنیاد، نیوز ایٹین اردو نے کی تصدیق، سال 2017 کی تصویر کے ساتھ خبر ہو رہی ہے وائرل

سوشل میڈیا پر کل صبح سے گردش کر رہی امرناتھ یاترا بس حادثے کی خبر نےجہاں ایک جانب ہنگامہ کھڑا کر دیا، وہیں خبر کی حقیقت جاننے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ خبر بے بنیاد ہے۔ لہٰذا عوام سے اپیل ہے کہ وہ فیک نیوز (فرضی خبروں) پر دھیان نہ دیں۔

  • Share this:
سوشل میڈیا پر امرناتھ یاترا کی بس حادثے کی خبر بے بنیاد، نیوز ایٹین اردو نے کی تصدیق، سال 2017 کی تصویر کے ساتھ خبر ہو رہی ہے وائرل
سوشل میڈیا پر امرناتھ بس یاترا بس حادثے کی خبر بے بنیاد، نیوز 18 اردو کی تصدیق

رامبن: سوشل میڈیا پر کل صبح سے گردش کر رہی امرناتھ یاترا بس حادثے کی خبر نےجہاں ایک جانب ہنگامہ کھڑا کر دیا، وہیں خبر کی حقیقت جاننے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ خبر بے بنیاد ہے۔ لہٰذا عوام سے اپیل ہے کہ وہ فیک نیوز (فرضی خبروں) پر دھیان نہ دیں۔  نیوز 18 اردو کی جانب سے تصدیق کرنے پر معلوم ہوا کہ سال 2017 میں ایک دردناک  سڑک حادثے میں یاتریوں سے بھری بس ناچلانہ رامسو میں حادثے نا شکار ہوئی تھی، جس میں سوار 16 یاتری جان بحق اور  19 افراد  زخمی ہوئے تھے۔


نیوز 18 اردو کی جانب سے تصدیق کرنے پر معلوم ہوا کہ سال 2017 میں ایک دردناک سڑک حادثے میں یاتریوں سے بھری بس ناچلانہ رامسو میں حادثے نا شکار ہوئی تھی، وہی تصویر دوبارہ وائرل کی جا رہی ہے۔
نیوز 18 اردو کی جانب سے تصدیق کرنے پر معلوم ہوا کہ سال 2017 میں ایک دردناک سڑک حادثے میں یاتریوں سے بھری بس ناچلانہ رامسو میں حادثے نا شکار ہوئی تھی، وہی تصویر دوبارہ وائرل کی جا رہی ہے۔


آج صبح کسی نامعلوم شخص نے اس وقت کی  ایک تصویر کو سوشل میڈیا پر ناشری رامبن میں  ہوئے تازہ حادثے سے جوڑ کر پوسٹ کیا، جس کے بعد چاروں ظرف افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔ تاہم رامبن پولیس اور کنٹرول روم کو موصول ہوئی کئی کالز کے بعد ایس ایس پی رامبن حسیب الرحمان نے جاری بیان میں کہا کہ "ضلع رامبن کی حدود میں اس طرح کا کوئی سڑک حادثہ پیش نہیں آیا ہے، سوشل میڈیا پر گردش کر رہی خبر بالکل بے بنیاد ہے، اس لئے عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل خبر پر توجہ نہ دے۔


نیوز 18 اردو کی جانب سے بھی  اپنے تمام قارئین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فرضی خبروں پر بالکل بھی توجہ نہ دیں۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں زیادہ گردش کرتی ہیں، ان کا حصہ نہ بنیں اور نہ ہی اسے شیئر کریں۔ 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 19, 2020 01:47 PM IST