உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیوز 18 رائزنگ انڈیا سمٹ 2019 : کچی پکی پرچی کا کھیل ختم کردیا ، اس لئے مجھے پانی پی پی کر گالی دی جاتی ہے : وزیر اعظم

    نیوز 18 نیٹ ورک 25 اور 26 فروری کو دہلی میں رائزنگ انڈیا سمٹ کا انعقاد کرنے جا رہا ہے۔ مذہب، سیاست، کاروبار، فلم اور کھیلوں سے جڑی ہستیاں اپنے خیالات پیش کریں گی ۔

  • News18 Urdu
  • | February 25, 2019, 21:36 IST
    facebookTwitterLinkedin
    LAST UPDATED 3 YEARS AGO

    AUTO-REFRESH

    HIGHLIGHTS

    21:32 (IST)

    ذرا سوچئے ، ہندوستان جب سب سے تیزی سے بڑھنے والی معیشت بن گیا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ نوکری کے بغیر ہی ایسا ہوجائے ؟ جب ملک میں ایف ڈی آئی آل ٹائم ہائی ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ نوکریاں پیدا نہیں ہورہی ہوں ؟ جب کئی بین الاقوامی رپورٹ کہہ رہی ہیں کہ ہندوستان سب سے تیزی سے غریبی ہٹا رہا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ نوکری کے بغیر لوگ غریبی سے باہر آرہے ہوں ؟ : وزیر اعظم

    21:10 (IST)

    ہمارے یہاں کس طرح عوام کے پیسے کو عوام کا نہ سمجھنے کی روایت عرصہ تک حاوی رہی ہے ۔ آپ بھی جانتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سیکڑوں اسکیمیں دہائیوں تک ادھوری رہ رہتیں ۔ اٹکتی بھٹکتی نہ رہتیں ، اس لئے ہی ہماری حکومت اسکیموں میں تاخیر کو مجرمانہ لاپروائی سے کم نہیں مانتی : وزیر اعظم مودی

    21:7 (IST)

    ہماری حکومت نے پردھان منتری کسان یوجنا کی شروعات کی ہے ۔ 12 کروڑ کسان کنبوں کو اس کی ضرورت پورا کرنے کیلئے ، مثال کے طور پر چارہ خریدنے ، بیج خریدنے ، کھاد خریدنے کیلئے سرکار 75 ہزار کروڑ روپے براہ راست کسانوں کے کھاتے میں ٹرانسفر کرنے جارہی ہے ، لیکیج ممکن نہیں ہے ۔ اب سوچئے ، کسی کو چارہ گھوٹالہ کرنا ہو تو کیسے کرے گا ؟ کیونکہ اب تو براہ راست موبائل پر میسیج آتا ہے ، کچی پکی پرچی کا تو سارا نظام ہی مودی نے ختم کردیا ہے ، اس لئے ہی تو مجھے پانی پی پی کر گالیاں دی جاتی ہے : وزیر اعظم

    21:4 (IST)

    پہلے کی حکومتوں نے ملک میں جو نظام بنا رکھا تھا ، اس میں ایک دو نہیں 8 کروڑ ایسے فرضی نام تھے ، جن کے نام پر سرکاری فائدے ٹرانسفر کئے جارہے تھے ۔ ساتھیوں ، حکومت کی اس کوشش سے ایک لاکھ 10 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ غلط ہاتھوں میں جانے سے بچ رہے ہیں : وزیر اعظم مودی

    20:56 (IST)

    میری حکومت آنے کے بعد کچی پکی پرچی کا کھیل بند ہوگیا ہے ۔ جی ایس ٹی کے ذریعہ ٹیکس سیدھے حکومت تک پہنچ رہا ہے ۔ لوگوں کا کالا کاروبار بند ہوگیا ہے ، اس لئے تو ایسے لوگ پانی پی پی کر مجھے کوستے ہیں : وزیر اعظم

    20:54 (IST)

    جن دھن اکاونٹ ، آدھار اور موبائل کو جوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک کے بعد ایک کرکے کاغذوں میں دبے ہوئے فرضی نام سامنے آنے لگے ۔ آپ سوچئے ، اگر آپ کے گروپ میں 50 لوگ ایسے ہو جائیں جن کی ہرمہینے تنخواہ جارہی ہو ، لیکن وہ حقیقت میں ہو ہی نہیں ، تو کیا ہوگا : وزیر اعظم

    20:52 (IST)

    ہماری حکومت کے دوران تقریبا چھ لاکھ کروڑ روپے مرکزی حکومت نے براہ راست فائدہ حاصل کرنے والوں کے اکاونٹ میں بھیجے ہیں اور مجھے یہ کہتے ہوئے فخر ہے کہ پہلے کی طرح 100 میں صرف 15 پیسے نہیں بلکہ پورے پیسے لوگوں کو مل رہے ہیں : وزیر اعظم مودی

    20:48 (IST)

    ہندوستان کی گلوبل اسٹینڈنگ کی بات کریں تو ہم پڑھتے آئے تھے کہ اکیسویں صدی ہندوستان کی صدی ہے ۔ ہندوستان کو 2013 میں دنیا کے فریزائل پانچ ممالک میں پہنچادیا گیا ۔ آج حکومت کے عزم اور 125 کروڑ ہم وطنوں کی محنت کے دم پر ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی معیشت بن گئی ہے : وزیر اعظم مودی

    20:45 (IST)

    وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہی حالت انکم ٹیکس کو لے کر تھی ۔ مڈل کلاس انکم ٹیکس میں چھوٹ کیلئے مسلسل آواز اٹھاتا تھا ، لیکن راحت کے نام پر کچھ نہیں ملتا تھا ۔ ہماری حکومت نے پانچ لاکھ تک کی قابل ٹیکس آمدنی کو ہی ٹیکس کے دائرے سے باہر کردیا ۔

    20:44 (IST)

    وزیر اعظم مودی نے جی ڈی پی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جب اٹل جی نے کانگریس کے ہاتھوں میں حکومت سونپی تھی ، تو اس وقت جی ڈی پی 8 فیصد تھی ۔ سال 2014 میں یہ پانچ فیصد تک پہنچ گئی ، مگر ہم نے اس کو دوبارہ 8 فیصد تک پہنچادیا ہے ۔ انہوں نے ترقی کی شرح کو کم کردیا اور ہم نے اس کو دوبارہ بڑھادیا ۔

    نیوز 18 نیٹ ورک 25 اور 26 فروری کو دہلی میں رائزنگ انڈیا سمٹ کا انعقاد کررہا ہے ، جس مذہب، سیاست، کاروبار، فلم اور کھیلوں سے جڑی ہستیاں اپنے خیالات پیش کررہی ہیں ۔ پہلے دن وزیر اعظم نریندر مودی  نے مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کیا ۔  وزیر اعظم مودی نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں حالت یہ تھی کہ جو بڑھنا چاہئے تھا وہ کم ہورہا تھا اور جو کم ہونا چاہئے تھا وہ بڑھ رہا تھا ۔ اب مہنگائی کی مثال لیجئے ، ہم سب کو پتہ ہے کہ مہنگائی کی شرح قابو میں رہنی چاہئے ، لکین گزشتہ حکومتوں میں ضروری اشیا کی قیمتیں آسمان چھو رہی تھیں ۔ نیوز روم پروڈیوسرز کو یاد ہے نہ کہ آپ نے کتنی مرتبہ اپنے شو میں مہنگائی ڈائن مار جات ہے چلایا تھا ۔ آج ہماری حکومت میں مہنگائی کی شرح گر کر 2-4 فیصد کے آس پاس رہ گئی ہے ۔ یہ فرق اس وقت آتا ہے جب سیاست سے ہٹ کر ملک کی پالیسی کو ترجیح دی جاتی ہے ۔

    وزیر اعظم مودی نے جی ڈی پی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جب اٹل جی نے کانگریس کے ہاتھوں میں حکومت سونپی تھی ، تو اس وقت جی ڈی پی 8 فیصد تھی ۔ سال 2014 میں یہ پانچ فیصد تک پہنچ گئی ، مگر ہم نے اس کو دوبارہ 8 فیصد تک پہنچادیا ہے ۔ انہوں نے ترقی کی شرح کو کم کردیا اور ہم نے اس کو دوبارہ بڑھادیا ۔

    لائیو اپ ڈیٹس کیلئے ہمارے ساتھ جڑے رہیں ۔