آرٹیکل370کی منسوخی کے بعد وادی کشمیرمیں سی آرپی ایف کا یہ اقدام،بدل رہی کشمیرکی تصویر

آج ہیون سنیما میں سی آر پی ایف کا ایک ہیڈکوارٹر قائم ہے۔ لیکن یہاں پر لگا رنگین پردہ اب بھی اپنے دور کی شان و شوکت بیان کررہا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ پردہ فلم شائقین کی داد و محبت کا محتاج نہیں تھا

Nov 20, 2019 09:38 PM IST | Updated on: Nov 20, 2019 09:38 PM IST
آرٹیکل370کی منسوخی کے بعد وادی کشمیرمیں سی آرپی ایف کا یہ اقدام،بدل رہی کشمیرکی تصویر

فائل فوٹو ۔ اے پی ۔

کشمیرمیں جہاں حکومت نے سنیما کو پھر سے بحال کرنے کےلئے حامی بھری ہے۔ وہیں سی آر پی ایف نے اسطرح کی ایک پہل کے ذریعہ لگ بھگ3 دہائیوں کے بعد اننت ناگ میں سنیما کوبحال کردیا ہے۔ اسطرح سے کشمیر میں لوگوں کےلئے ایک تفریحی ذریعہ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ حالات میں بہتری کی تصویرکو صاف کرنے کےلئے بھی اب سنیما کی مکمل بحالی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

اننت ناگ میں معروف ترین ہیون سنیما تھیٹرہے جہاں پر 30 برس پہلے لوگوں کی بھیڑفلم دیکھنے کےلئے امڈ پڑتی تھی۔ لیکن جوں جوں کشمیر میں ملی ٹینسی پروان چڑھی تو ہیون سنیما سمیت وادی کے تمام دیگر سنیما ہال یکا یک بند ہوگئے۔ آج ہیون سنیما میں سی آر پی ایف کا ایک ہیڈکوارٹر قائم ہے۔ لیکن یہاں پر لگا رنگین پردہ اب بھی اپنے دور کی شان و شوکت بیان کررہا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ پردہ فلم شائقین کی داد و محبت کا محتاج نہیں تھا لیکن آج حالات اسکے برعکس ہیں۔ تاہم سی آر پی ایف کی 40 ویں بٹالین نے ہیون کے اس بڑے پردے کی کھوئی شان لوٹانے کی ایک پہل کے تحت اسکو پھر سے چالو کر دیا اور اسطرح سے ہیون سنیما میں پھر ایک بار ہندی فلموں کی صدا گونج اٹھی۔ سی آر پی ایف کا کہنا ہے کہ سنیما کا بحال ہونا حالات میں بتدریج بہتری کے آثار کو نمایاں کرتا ہے۔

موجودہ حالات کے دوران اگرچہ اس بار فلم شایقین کی کافی کم تعداد ہیون سنیما میں دیکھی گئی۔ لیکن منتظمین کے مطابق حالات میں مزید بہتری کے بعد یہ تعداد بڑھ جائے گی۔ جبکہ سنیما کو دوبارہ بحال کرنے کا مقصد شورش زدہ کشمیر کے لوگوں کو تفریح کا سامان مہیا کرنا ہے۔ کیونکہ موجودہ حالات کے دوران یہاں کے لوگوں میں ڈپریشن کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

Loading...

ادھرہیون سنیما کے دوبارہ بحال ہونے سے لوگوں کا ملا جلا رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ جہاں بچے اور نوجوان نسل سنیما جیسے بڑے پردے سے نا آشنا ہیں۔ وہیں کچھ لوگ کشمیر میں سنیما کے چلن کو یاد کرتے ہیں۔ جبکہ ٹی وی پرکارٹون شودیکھنا اورموبائل فون پر گیمس کھیلنا، کشمیر میں بچوں کےلئے ایک بڑا تفریحی ذریعہ ہے۔

واضح رہے کہ کشمیر میں ملی ٹینسی کے بعد سنیما گھروں کو دوبارہ چالو کرنے کی آج تک کئی بار پہل کی گئ۔ 1998 میں سرکار نے اگرچہ اس حوالے سے ایک بڑے پیکیج کا اعلان بھی کیاتھا۔ لیکن سرینگر میں کچھ ہی سنیما گھروں کے سلور سکرین دوبارہ چمکے۔ تاہم حالات نے پھر ایسی کروٹ لی کہ ان پردوں کی چمک دوبارہ پھیکی ہوگئی۔ ایسے میں ہیون سنیما کو دوبارہ چالو کرنے کی سی آر پی ایف کی یہ پہل کشمیر میں دوبارہ سنیما کے چلن کو عام کرنے میں کامیاب ہوگی یا نہیں یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔

نیوز 18اردو کے لئے مدثر قادری کی خصوصی رپورٹ

Loading...