نیوز18اردوکی خبراثر:مسلم پولیس ملازمین کوداڑھی رکھنے کی ملی اجازت،الور کے ایس پی نے بدلااپنافیصلہ

نیوز18 اردو پر خبر نشر ہونے کے بعد راجستھان میں الورکے ایس پی دیشمکھ پریش انیل کوچند گھنٹوں میں اپنے فیصلہ کو واپس لینے پرمجبور ہوگئے ہیں۔

Nov 22, 2019 08:20 PM IST | Updated on: Nov 22, 2019 08:20 PM IST
نیوز18اردوکی خبراثر:مسلم پولیس ملازمین کوداڑھی رکھنے کی ملی اجازت،الور کے ایس پی نے بدلااپنافیصلہ

نیوز18 اردو کی خبرنے نے ایک بار پھر اثر دکھاہے۔نیوز18 اردو پر خبر نشر ہونے کے بعد راجستھان میں الورکے ایس پی دیشمکھ پریش انیل کوچند گھنٹوں میں اپنے فیصلہ کو واپس لینے پرمجبور ہوگئے ہیں۔الور کے ایس پی دیشمکھ پریش انیل نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے اس بات کی اجازت دی ہے کہ انہوں نے 9پولیس اہلکارکوملی ہوئی داڑھی رکھنے کی اجازت کومنسوخ کرنے کے احکامات کو واپس لیے لیاہے۔

Loading...

الورکے ایس پی  دیشمکھ پریش انیل پردباؤ پڑا اور انہوں نے اپنے فیصلے کو واپس لیے لیا۔ الورکے ایس پی دیشمکھ پریش انیل پردباؤ پڑا اور انہوں نے اپنے فیصلے کو واپس لیے لیا۔

یادرہے کہ راجستھان کے الورضلع میں محکمہ پولیس نے مسلم اہلکاروں سے کہا تھا ہے کہ انہیں داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ الور کے ایس پی دیشمکھ پریش انیل نے جمعرات کے روزایک حکم جاری کیا اور9پولیس اہلکارکوملی ہوئی داڑھی رکھنے کی اجازت کومنسوخ کردیا۔ ان 9 مسلم پولس اہلکار میں 7 کانسٹیبل، 1 ایس آئی اور1 ہیڈکانسٹیبل شامل تھے۔

اس حکم کے بعدمسلمانوں میں سخت غم و غصہ دیکھا جارہا ہے اوراس حکم کوواپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 9 مسلم پولیس اہلکاروں کو ماضی میں ایس پی آفس سے داڑھی رکھنے کی اجازت ملی ہوئی تھی۔ ایس پی آفس کی جانب سے جون، جولائی، اگست اورستمبر کے مہینوں کی مختلف تاریخوں پرداڑھی رکھنے کی اجازت فراہم کی گئی تھی، لیکن اب ایس پی دیشمکھ نے فوری اثر سے داڑھی رکھنے کی اجازت کو منسوخ کردیاتھا۔ جس کے بعد آج دن بھرنیوز18 اردو نے اس خبر کو نشرکیا جس کے بعد ایس پی الورکے ایس پی دیشمکھ پریش انیل پردباؤ پڑا اور انہوں نے اپنے فیصلے کو واپس لیے لیا۔

Loading...