உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    معاشرے میں خواتین کے حقوق سے قوم کی ترقی وابستہ، نیوز 18 اردو نے شروع کی ایک خاص مہم

    معاشرے میں خواتین کے حقوق سے قوم کی ترقی وابستہ، نیوز 18 اردو نے شروع کی ایک خاص مہم

    معاشرے میں خواتین کے حقوق سے قوم کی ترقی وابستہ، نیوز 18 اردو نے شروع کی ایک خاص مہم

    بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش 2 اکتوبرکو نیوز 18 اردو نے ملک کی خواتین کا حق دلانے کیلئے ایک مہم شروع کی ہے جس کانام۔ عورتوں کا حق، کوئی شک؟ ہے۔ اس مہم کا مقصد معاشرے کو یہ یاد دلانا ہےکہ عورت کی شناخت مرد سے نہیں ہوتی، عورت کا وجود اس کا اپنا ہے۔

    • Share this:

      نئی دہلی: خواتین کے حق مانگنے سے قوم کی ترقی جڑی ہے۔ سماج میں عورتوں کے حقوق کے لئے آگاہی مہم چلانا اور ان کے بارے میں بات کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن مختلف ادوار میں ان کی شکل تبدیل اور ان کی پہنچ میں اونچ نیچ آتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اونچ نیچ کی تاحیات مخالفت کرنے والے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش 2 اکتوبرکو نیوز 18 اردو  نے ملک کی خواتین کا حق دلانے کیلئے ایک مہم شروع کی ہے جس کانام۔ عورتوں کا حق، کوئی شک؟ ہے۔ اس مہم کا مقصد معاشرے کو یہ یاد دلانا ہےکہ عورت کی شناخت مرد سے نہیں ہوتی، عورت کا وجود اس کا اپنا ہے۔ عورتوں کا حق ۔۔کوئی شک؟ کے افتتاحی پروگرام میں دہلی حکومت کے وزیر عمران حسین، سماجی کارکن طاہرہ حسن سمیت ملک کی نامور شخصیتوں نے شرکت کی۔ عمران حسین نے خواتین کے حقوق سے متعلق نیوز 18 اردو کی مہم کو سراہتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قراردیا۔



      تو وہیں طاہرہ حسن نے موجودہ دور میں عورتوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کو ضروری بتاتے ہوئے سیاست دانوں سے عورتوں کے حقوق کی بازیابی کیلئے ایماندارانہ کوشش کی اپیل کی۔ پروگرام میں ملک کی ایسی خواتین بھی شریک ہوئیں، جنھوں نے اپنے دم پراپنے خاندان کا ہی نہیں بلکہ ملک کا نام بھی روشن کیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی آمد کے بعد سے عورتوں کے حقوق کے لئے اٹھنے والی آوازیں اب زیادہ موثر طور پر بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔



      اس پروگرام کی مدد سے عام خواتین میں بھی اس مقصد کے لیے شعور جاگا ہے اور وہ اس کے لیے باہر نکل کر اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہیں۔نیوز18اردو بھی اپنی مہم کے ذریعہ خواتین کے حقوق کی مہم کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: