உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    NIA :داؤد ابراہیم کے قریبی’سلیم فروٹ‘کو این آئی اے نے کیا گرفتار، ٹیرر فنڈنگ کا ہے الزام

    داود ابراہیم کے قریبی کو این آئی اے نے کیا گرفتار۔

    داود ابراہیم کے قریبی کو این آئی اے نے کیا گرفتار۔

    NIA Arrests Salim Qureshi: این آئی اے نے مافیا ڈان داؤد ابراہیم، چھوٹا شکیل اور گینگسٹر کے قریبی ساتھیوں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق ہندوستان میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کو انجام دینے کے لیے پاکستان سے داؤد ابراہیم نے ایک خصوصی یونٹ تشکیل دیا تھا۔

    • Share this:
      NIA Arrests Salim Qureshi: این آئی اے نے داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی اور گینگسٹر چھوٹا شکیل کے بہنوئی سلیم فروٹ عرف سلیم قریشی کو گرفتار کیا ہے۔ سلیم پر ٹیرر فنڈ اور منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ این آئی اے نے کہا کہ سلیم فروٹ کے خلاف 3 فروری کو دہشت گرد/مجرمانہ سرگرمیوں کی ازخود نوٹس لینے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ گینگسٹر چھوٹا شکیل کے نام سے جبرا وصول کرتا تھا۔

      فنڈ جٹانے میں ادا کیا سرگرم رول
      ایجنسی نے کہا کہ ڈی کمپنی (Dawood Ibrahim) کے قریبی ساتھی سلیم فروٹ نے ڈی کمپنی کی مزید دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے دہشت گردی کے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے پراپرٹی ڈیلنگ اور تنازعات کے تصفیہ کے ذریعے چھوٹا شکیل کے نام پر بھاری رقم اکٹھا کرنے میں اہم رول ادا کیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کے بعد اگلے CJI کون؟ جسٹس ادے امیش للت کی سفارش

      Covid-19: کورونا نے پھر بڑھائی تشویش، کیا آنے والی ہے نئی لہر؟ ماہرین نے کہی یہ بات

      یہ بھی پڑھیں:
      EXCLUSIVE: دہلی میں منکی پاکس کے معاملات بڑھیں گے؟ سینئر ڈاکٹر نے دیا یہ جواب

      چھوٹا شکیل نے ہندوستان میں فساد کروانے کی رچی تھی سازش
      این آئی اے نے مافیا ڈان داؤد ابراہیم، چھوٹا شکیل اور گینگسٹر کے قریبی ساتھیوں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق ہندوستان میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کو انجام دینے کے لیے پاکستان سے داؤد ابراہیم نے ایک خصوصی یونٹ تشکیل دیا تھا۔ اس یونٹ کا کام ہندوستان میں سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانا اور ان پر حملہ کرنا تھا۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ داؤد ابراہیم اور چھوٹا شکیل نے ہندوستان میں فسادات بھڑکانے کی سازش پاکستان سے رچی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: