உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Udaipur killing case:این آئی اے نے اُدئے پور قتل معاملے میں راجستھان میں کئی مقامات پر مارے چھاپے، موبائل-لیپ ٹاپ سمیت دیگر مواد برآمد

    اُدئے پور قتل معاملے میں این آئی اے نے مختلف مقامات پر مارے چھاپے۔

    اُدئے پور قتل معاملے میں این آئی اے نے مختلف مقامات پر مارے چھاپے۔

    کنہیا لال کا 28 جون کو ادے پور میں قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ دھان منڈی علاقے کے بھوت محل علاقے میں رہتا تھا اور پیشے سے درزی تھا۔ دو مسلم نوجوان کپڑے سلانے کے بہانے اس کی دکان پر پہنچے اور کنہیا پر تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کرنے لگے۔

    • Share this:
      Udaipur killing case:جئے پور: نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے منگل کو ادے پور کے کنہیا لال قتل کیس کے سلسلے میں راجستھان میں کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ معلومات کے مطابق، این آئی اے نے ادے پور ضلع میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔ چھاپے کے دوران ملزمان اور مشتبہ افراد سے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور سم کارڈز سمیت دیگر اشتعال انگیز مواد برآمد کر لیا گیا۔ معاملے کی تفتیش ابھی جاری ہے۔

      بتادیں کہ اس معاملے میں 29 جون کو ادے پور کے دھان منڈی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس معاملے میں درج ایف آئی آر کا نمبر 81/2022 ہے۔ اس کے بعد این آئی اے نے 29 جون کو ہی ایک الگ کیس درج کیا تھا اور کیس کی جانچ اپنے ہاتھ میں لی تھی۔

      این آئی اے نے پھر مانگی ملزمین کی ریمانڈ
      ادے پور کے کنہیا لال قتل کیس کے سبھی ساتوں ملزمین کو منگل کو جے پور کی این آئی اے عدالت میں پیش کیا گیا۔ این آئی اے نے عدالت میں موجود تمام ملزمان کو ریمانڈ کی پیشکش کی۔ این آئی اے نے عدالت کو بتایا ہے کہ ملزمین سے پوچھ تاچھ میں کئی اہم انکشافات ہوئے ہیں۔ ایسے میں ملزمان سے مزید پوچھ تاچھ کی ضرورت ہے۔ کنہیا لال قتل کیس میں اب تک محمد ریاض اور غوث محمد سمیت محسن خان، آصف حسین، محمد محسن، وسیم اور فرہاد محمد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Mohammad Zubair:سیتاپورکیس میں محمد زبیرکی عبوری ضمانت میں توسیع،7ستمبرکو ہوگی حتمی سماعت

      یہ بھی پڑھیں:
      Prayagraj: یوپی سے اویسی کیلئے بری خبر! کے100 سے زیادہ کارکن دیں گے بڑے پیمانے پر استعفیٰ

      28جون کو ہوا تھا کنہیا کا قتل
      کنہیا لال کا 28 جون کو ادے پور میں قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ دھان منڈی علاقے کے بھوت محل علاقے میں رہتا تھا اور پیشے سے درزی تھا۔ دو مسلم نوجوان کپڑے سلانے کے بہانے اس کی دکان پر پہنچے اور کنہیا پر تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کرنے لگے۔ تیز رفتار حملوں نے کنہیا کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس کا ساتھی ایشور سنگھ جو دکان پر کام کر رہا تھا، وہ بھی حملے میں شدید زخمی ہو گیا جس کا ہسپتال میں علاج کیا جارہا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: