سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ معاملے کا فیصلہ پاکستانی وکیل کی وجہ سے ملتوی، 14 مارچ کوہوگی اگلی سماعت

اسیما نند کے خلاف مقدمہ ان کے اقبالیہ بیان کی بنیاد پردرج کیا گیا تھا، لیکن بعد وہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے تھے۔ 

Mar 11, 2019 08:21 PM IST | Updated on: Mar 11, 2019 08:22 PM IST
سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ معاملے کا فیصلہ پاکستانی وکیل کی وجہ سے ملتوی، 14 مارچ کوہوگی اگلی سماعت

سمجھوتہ ایکسپریس میں ہوئے بلاسٹ میں 68 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ فائل فوٹو

این آئی اے کے پنچکولہ کورٹ نے سمجھوتہ بلاسٹ میں فیصلہ ملتوی کردیا ہے۔ اب اس معاملے کی سماعت 14 مارچ کو ہوگی۔ دراصل پاکستان کے ایک وکیل نے این آئی اے کی عدالت میں عرضی دائرکی ہے، جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس سمجھوتہ بلاسٹ معاملے کے ثبوت ہیں۔

واضح رہے کہ معاملہ 18 فروری 2007 کا ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ ایک دہشت گردانہ بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 18 فروری 2007 کو ہندوستان اورپاکستان کے درمیان چلنے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکہ ہوا تھا۔ یہ ٹرین دہلی سے پاکستان جارہی تھی۔

Loading...

دھماکہ ہریانہ کے پانی پت ضلع میں چاندنی باغ تھانے کے تحت سواہ گاوں کے دیوانہ اسٹیشن کے نزدیک ہوا تھا۔ دھماکے سے ہوئی آتشزدگی میں 68 افراد کی موت ہوگئی تھی اور 13 دیگرلوگ زخمی ہوگئے تھے۔ مارےگئے زیادہ ترلوگ پاکستانی شہری تھے۔

اگست 2014 میں اس معاملے میں ملزم سوامی اسیما نند کو ضمانت مل گئی۔  سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ کیس کے اہم ملزم سوامی اسیمانند کو ضمانت مل گئی تھی۔ پنجاب کے پنچ كولہ این آئی اے کورٹ نے اسیمانند کو ضمانت دی۔ ضمانت کیلئے سوامی اسیمانند کو ایک ایک لاکھ کا پرسنل بانڈ اور 1-1 لاکھ کے 2 شيوریٹي بانڈ بھرنا ہوگا۔ آرایس ایس سے وابستہ سوامی اسیمانند 18 فروری 2007 کودہلی لاہورسمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکہ کا اہم ملزم ہے۔ اس دھماکے میں 68 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جس میں زیادہ ترپاکستانی تھے۔

سوامی اسیما نند کوسی بی آئی نے 2010 میں اتراکھنڈ کے ہری دوارسے گرفتارکیا تھا۔ ان پر سال 2006 سے 2008 کے درمیان ہندوستان میں کئی مقامات پرہوئے بم دھماکوں کوانجام دینےسے منسلک ہونے کا الزام لگایا تھا۔

اسیما نند کےخلاف مقدمہ ان کے اقبالیہ بیان کی بنیاد پربنا تھا، لیکن بعد میں وہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ٹارچرکیا گیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اقبالیہ بیان دیا تھا۔ بلاسٹ کے تمام ملزمین کے خلاف یہ معاملہ پنچکولہ کی این آئی اے عدالت میں چل رہا ہے اورمعاملے میں اب تک کل 224 گواہوں کے بیان درج ہوچکے ہیں۔ اب 11 مارچ کو این آئی اے عدالت سمجھوتہ بلاسٹ معاملے میں بڑا فیصلہ سنا سکتی ہے۔

Loading...