باکسنگ فیڈریشن کی بے رخی، مسلم خاتون باکسرنے وزیرکھیل کو خط لکھ کرکیا ناراضگی کا اظہار

نکہت زریں نےکہا 'ہرکوئی کسی بھی دن جیت سکتا ہے، یہ باکسنگ ہے، میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ مجھے ہی بھیجو، لیکن کم ازکم مجھے موقع تودیں۔

Oct 17, 2019 06:30 PM IST | Updated on: Oct 17, 2019 08:39 PM IST
باکسنگ فیڈریشن کی بے رخی، مسلم خاتون باکسرنے وزیرکھیل کو خط لکھ کرکیا ناراضگی کا اظہار

باکسنگ فیڈریشن کی بے رخی کے بعد یہ مسلم خاتون باکسرزرین نکہت وزیرکھیل کی پاس جائیں گی۔

کولکاتا: انڈین باکسنگ ایسوسی ایشن (بی ایف آئی) نے حال ہی میں کہا ہےکہ اولمپک کوالیفائر کے لئےکوئی ٹرائل نہیں ہوگی اور51 کلوگرام  وزن میں میری کام کوالیفائرمیں ہندوستان کی نمائند گی کریں گی۔ بی ایف آئی کے چیئرمین اجےسنگھ نےنامہ نگاروں سےکہا تھا کہ میری کام چین میں ہونے والےاولمپک کوالیفائرکے لئےایسوسی ایشن کی 'آٹومیٹک پسند' ہوسکتی ہیں۔ اس بیان سے حالانکہ نوجوان خاتون باکسر(مکے باز) نکہت زرین کوخوشی نہیں ملی ہے۔ اس معاملے میں نکہت زریں نے وزیرکھیل کو خط لکھ کرناراضگی کا اظہارکیا ہے۔

نکہت زرین نےآئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئےگزشتہ روزکہا تھا 'آج (بدھ) کی صبح ہی مجھے پتہ چلا کہ چیئرمین نےکہا ہےکہ ٹرائل نہیں ہوں گے'۔ نکہت زریں نےکہا 'ہرکوئی کسی بھی دن جیت سکتا ہے، یہ باکسنگ ہے، میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ مجھے ہی بھیجو، لیکن کم ازکم مجھے موقع تودیں۔ میں ان سے بات کرنےکی کوشش کروں گی۔ اس سےقبل انہوں نےکہا تھا کہ عالمی چمپئن شپ میں صرف گولڈ اورسلورمیڈل فاتحین کھلاڑی ہی اولمپک کوالیفائرکےلئےاپنےآپ منتخب ہوجائیں گے، لیکن وہ اب خواتین کےلئے ضوابط تبدیل کررہے ہیں'۔

Loading...

خاتون باکسرنکہت زریں نے وزیرکھیل کو خط لکھ کر ٹوئٹ کیا ہے۔ خاتون باکسرنکہت زریں نے وزیرکھیل کو خط لکھ کر ٹوئٹ کیا ہے۔

 

میری کام نے حال ہی میں روس میں ختم ہوئی عالمی خواتین باکسنگ چمپئن شپ میں کانسے کا تمغہ(برونزمیڈل) جیتا ہے۔ بدلے ہوئے وزن زمرے 51 کلوگرام میں میری کام کوسیمی فائنل میں شکست ملی تھی، جس سے انہیں کانسے کے تمغے سے ہی اکتفا کرنا پڑا تھا۔ اس عالمی چمپئن شپ سے پہلے بی ایف آئی کی حکمت عملی تھی کہ خواتین اورمرد دونوں زمروں میں میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کوہی اولمپک کوالیفائرمیں بھیجا جائےگا اور انہیں ٹرائل نہیں دینی ہوگی۔

نکہت زریں کے ذریعہ وزیرکھیل کو لکھا گیا خط۔ نکہت زریں کے ذریعہ وزیرکھیل کو لکھا گیا خط۔

خواتین زمرے میں حالانکہ اولمپک کوالیفائرمیں جانےکا قانون صرف گولڈ اورسلورمیڈل (طلائی اورنقرئی تمغہ) فاتحین پرنافذ ہوتا ہے۔ 22 سالہ نکہت زریں نےکہا 'آج دسمبرمیں ہماری نیشنلس ہے، ایک بارپھرمجھے پوری محنت کرنی ہوگی اوراگرٹرائلس نہیں ہوتی ہیں توان ٹورنامنٹ کا کیا جواز'؟ ان سے جب اگلے قدم کے بارے میں پوچھا گیا توانہوں نےکہا کہ وہ وزیرکھیل کرن رججوسے بات کریں گی۔ انہوں نےساتھ ہی کہا کہ انہوں نے بی ایف آئی چیئرمین سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن بات نہیں ہوپائی۔ اس کےبعد کرن رججو کے پاس جانے کا فیصلہ لیا گیا۔

نکہت زریں نےکہا 'ہرچیزچیئرمین کے ہاتھ میں ہے، میں نےان سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ جواب نہیں دے رہے ہیں۔ میں نےکافی بارکوشش کی، میں اپنے وزیرکھیل اور وزارت میں بات کروں گی۔ اس کے بعد دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ اگریہ سب ہوتا رہا تومیں اپنے کھیل پرتوجہ نہیں مرکوزکرپاؤں گی'۔ بی ایف آئی نےعالمی چمپئن شپ کے ٹرائلس میں نکہت زریں کومیری کام کے خلاف اترنے بھی نہیں دیا تھا۔ اس وقت سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین راجیش بھنڈاری نےکہا تھا کہ وہ نکہت زریں کومستقبل کے لئےبچا کررکھ رہے ہیں۔

Loading...