ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

نربھیا اجتماعی آبروریزی معاملہ: قصورواروں کوکبھی بھی دی جاسکتی ہے پھانسی، بکسرجیل میں پھندا بننا شروع

بکسرکے جیل سپرنٹنڈنٹ وجے کماراروڑہ نے کہا 'ہمیں گزشتہ ہفتے جیل ڈائریکٹوریٹ سے 14 دسمبرتک 10 پھانسی کا پھندا تیارکرنے کا حکم ملا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کہاں استعمال ہونے جارہے ہیں'۔ 

  • Share this:
نربھیا اجتماعی آبروریزی معاملہ: قصورواروں کوکبھی بھی دی جاسکتی ہے پھانسی، بکسرجیل میں پھندا بننا شروع
بکسرجیل کو اس ہفتے کے آخر تک پھانسی کے 10 پھندے تیار رکھنےکا حکم دیا گیا ہے۔

پٹنہ: نربھیا اجتماعی آبروریزی اور قتل کے قصورواروں کوجلد ازجلد ہی پھانسی دی جاسکتی ہے۔ اس کے لئے بہارکے بکسرجیل کواس ہفتے کے آخرتک پھانسی کے اندر 10 پھندے تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جس سے یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ یہ دہلی کے بدنام زمانہ نربھیا معاملے کے قصورواروں کے لئے ہوسکتے ہیں۔ بہارکا بکسرجیل، رایست کا واحد ایسا جیل ہے، جسے پھانسی کا پھندا بنانے میں مہارت حاصل ہے۔ اس کام کا حکم گزشتہ ہفتے دیا گیا تھا۔ حالانکہ جیل انتظامیہ کو یہ نہیں معلوم ہےکہ پھانسی کےان پھندوں کے لئے مانگ کہاں سےاورکس مقصد سے کی گئی ہے۔


بکسرجیل کو ملا 10 پھانسی کے پھندے تیارکرنے کا حکم


بکسرجیل کے سپرنٹنڈنٹ وجے کمار اروڑہ نے 'بھاشا' کو فون پربتایا، 'ہمیں گزشتہ ہفتے جیل ڈائریکٹوریٹ سے 14 دسمبرتک 10 پھانسی کے پھندا تیارکرنے کا حکم ملا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کہاں استعمال ہونے جارہے ہیں'۔ انہوں نے کہا، 'پارلیمنٹ حملے کے معاملے میں افضل گروکوموت کی سزا دینے کے لئے اس جیل میں تیارکئے گئے پھانسی کے پھندے کا استعمال کیا گیا تھا۔ 17-2016 میں ہمیں پٹیالہ جیل سے حکم ملا تھا۔ حالانکہ ہم یہ نہیں جانتے کہ کس مقصد کے لئے وہ پھندے تیارکرائے گئے تھے'۔


ایسے بنتا ہے پھانسی کا پھندا

جیل سپرنٹنڈنٹ وجے کمار اروڑہ نے کہا 'بکسرجیل میں طویل وقت سے پھانسی کے پھندے بنائے جاتے ہیں اورایک پھانسی کا پھندا 7200 کچے دھاگوں سے بنتا ہے۔ اسے تیارکرنے میں دوسے تین دن لگ جاتے ہیں، جس پر6-5 قیدی کام کرتے ہیں اوراس کی لٹ تیارکرنے میں موٹرسے چلنے والی مشین کا بھی تھوڑا استعمال کیا جاتا ہے۔  انہوں نے بتایا 'گزشتہ بارجب یہاں سے پھانسی کے پھندے کی فراہمی کی گئی تھی، توایک کی قیمت 1725 روپئے تھی۔ اس بار10 پھانسی کے پھندے تیارکرنے کے جواحکامات حاصل ہوئے ہیں، اس میں پیتل کے بش جوکہ گردن میں پھنستی ہے، کہ قیمت میں ہوئے اضافے کے سبب پھانسی کے پھندے کی قیمت میں تھوڑا اضافہ ہوسکتا ہے'۔

 مجرمین کو16 دسمبرکو دی جاسکتی پھانسی

بتایا جارہا ہےکہ نربھیا اجتماعی عصمت ریزی کے مجرمین کو پھانسی دینے کی تیاریاں شروع کردی گئیں ہیں۔ ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق ،تمام ملزمین کو16دسمبر کوپھانسی دی جاسکتی ہے۔ جس جگہ پھانسی دی جانی ہے وہاں صفائی ستھرائی کا کام بھی شروع ہوچکا ہے۔ ہم آپ کوبتادیں کہ سزایافتہ ونے شرما کے کی جانب سے داخل کردہ رحم کی درخواست کووزارت داخلہ نے صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کو روانہ کردیاہے۔ اہم بات یہ ہے کہ، تلنگانہ میں دیشا عصمت دری اور قتل کے معاملے کے بعد، نربھیا کے مجرمین کو پھانسی دینے کا مطالبہ شدت اختیارکرگیاہے۔ دریں اثنا ، یہ خبر ہے کہ اس معاملے میں سزا یافتہ پون کو منڈولی جیل سے تہااڑمنتقل کردیاگیاہے۔

رحم کی درخواست صدرجمہوریہ کے پاس

ہم آپ کوبتادیں کہ نربھیا اجتماعی عصمت ریزی معاملے میں ، 6 مجرمین میں سے ایک کی جیل میں ہی موت ہوگئی ہے، جبکہ ایک نابالغ مجرم سزا کاٹ کرجیل سے باہرآیا ہے۔ باقی چار مجرمین کی رحم کی درخواست صدرجمہوریہ کے پاس زیرالتواہے۔ جس کی وجہ سے ان کے خلاف مزید کارروائی نہیں ہوسکی۔ توقع کی جارہی ہے کہ وزارت داخلہ کی سفارش کے بعد صدرجلد ہی رحم کی درخواست پرفیصلہ کریں گے۔ ایسی صورتحال میں، اگرنربھیا واقعے کےمجرمین کو پھانسی دی جاتی ہے، توخیال کیا جاتا ہے کہ میرٹھ کے پون جلاد کو اس کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ تاہم ، اس کےلئے پون سے باضابطہ طورپرکوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

پون جلاد نے پھانسی کا مطالبہ بھی اٹھایانیوز18 کے ساتھ خصوصی گفتگو میں، پون جلاد نے نربھیا واقعے کے مجرمین کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیاتھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس طرح کے گھناؤنے کیس کے مجرمین کو پھانسی دی جانی چاہئےتاکہ دوسرے مجرم بھی یہ دیکھ کر خوفزدہ ہوجائیں۔ لوگوں کے ذہن میں اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے سے پہلے ہی انہیں پھانسی کا خوف رہے۔پھانسی دینے سے پہلے ہوتاہے ٹرائلپون جلاد نے کہا کہ پھانسی سے پہلے ایک ٹرائل ہوتا ہے، تاکہ پھانسی دیتے وقت کوئی غلطی نہ ہو۔ پھانسی کے پھنیدے سے کوئی بھی شخص بغیرموت کے واپس نہیں آسکتا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نربھیا واقعے کے ملزموں کو پھانسی دی جائے اور انہیں پھانسی دینے کا موقع فراہم کیا جائے۔



 
First published: Dec 09, 2019 08:10 PM IST