ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نربھیا سانحہ : دہلی سرکار کے وکیل نے کہا : 22 جنوری کو نہیں دی جاسکتی قصورواروں کو پھانسی ، بتائی یہ بڑی وجہ

دہلی حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں پیش سینئر وکیل راہل میہرا نے کہا کہ 21 جنوری کو ٹرائل کورٹ کے پاس جایا جائے گا ۔

  • Share this:
نربھیا سانحہ : دہلی سرکار کے وکیل نے کہا : 22 جنوری کو نہیں دی جاسکتی قصورواروں کو پھانسی ، بتائی یہ بڑی وجہ
نربھیا سانحہ : دہلی سرکار کے وکیل نے کہا : 22 جنوری کو نہیں دی جاسکتی قصورواروں کو پھانسی ۔ فائل فوٹو

نربھیا سانحہ کے ایک قصوروار مکیش نے نچلی عدالت کی جانب سے جاری ڈیتھ وارنٹ کو رکوانے کیلئے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے ، جس پر بدھ کو ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی ۔ اس دوران دہلی حکومت کے وکیل راہل میہرا نے کہا کہ قصورواروں کو 22 جنوری کو پھانسی کی سزا نہیں دی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے دلیل دی کہ رحم کی عرضی خارج ہونے کے 14 دنوں کے بعد ہی پھانسی ہوگی ۔ ایسے میں مکیش کی عرضی پری میچیور ( وقت سے پہلے ) ہے ۔ بتادیں کہ نچلی عدالت نے نربھیا سانحہ کے قصورواروں کو 22 جنوری کو پھانسی دینے کا فیصلہ سنایا ہے ۔


دہلی حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں پیش سینئر وکیل راہل میہرا نے کہا کہ 21 جنوری کو ٹرائل کورٹ کے پاس جایا جائے گا ۔ اگر اس وقت تک رحم کی عرضی خارج ہوجاتی ہے ، تو پھر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق 14 دنوں کی مہلت والا نیا ڈیتھ وارنٹ جاری کرنا ہوگا ۔ ایسے میں کسی بھی صورت میں 22 جنوری کو ڈیتھ وارنٹ پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے ، لہذا یہ عرضی ( ڈیتھ وارنٹ رکوانے والی عرضی ) پری میچیور ہے ۔


نربھیا سانحہ کے قصورواروں کی فائل فوٹو ۔
نربھیا سانحہ کے قصورواروں کی فائل فوٹو ۔


مکیش کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے بھی سوال اٹھایا ہے ۔ معاملہ کی سماعت کررہے جسٹس منموہن نے کہا کہ جیل افسران کی جانب سے قصورواروں کو پہلا نوٹس جاری کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی ؟ ساتھ ہی تلخ تبصرہ کرتے ہوئے جج نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ قصورواروں نے کیسے سسٹم کا غلط استعمال کیا ... ایسے میں تو لوگ سسٹم پر بھروسہ ہی کھو دیں گے ۔

عدالت میں سماعت کے دوران دہلی پولیس نے بھی ڈیتھ وارنٹ رکوانے سے متعلق مکیش کی عرضی پر اعتراض کیا ۔ پولیس کی جانب سے دلیل دی گئی کہ سال 2017 میں سپریم کورٹ قصورواروں کی اپیل خارج کرتا ہے اور سال 2020 میں رحم کی عرضی داخل کی جاتی ہے ، دونوں میں بڑا فاصلہ ہے ۔ قصورواروں نے اس معاملہ میں جان بوجھ کر تاخیر کی ۔ جیل مینوول کے اعتبار سے اپیل خارج ہونے کے بعد قصورواروں کو رحم کی عرضی داخل کرنے کیلئے سات دنوں کا وقت ملتا ہے ۔
First published: Jan 15, 2020 04:34 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading