உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تاج محل کے 500 میٹر کے اندر کوئی تجارتی سرگرمیاں نہ ہوں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    تاج محل (فائل فوٹو)

    تاج محل (فائل فوٹو)

    No commercial activities within 500mts of Taj Mahal: سال 1984 میں ماہر ماحولیات ایم سی مہتا کی ایک مفاد عامہ کی عرضی کے بعد سپریم کورٹ، تاج محل کے تحفظ کے لیے علاقے میں ہونے والی پیش رفت کی نگرانی کر رہی ہے، جسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے 1631 میں اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Agra Cantonment | Jammu | Hyderabad | Delhi
    • Share this:
      No commercial activities within 500mts of Taj Mahal: سپریم کورٹ (Supreme Court) نے مشہور سیاحتی مقام تاج محل کے 500 میٹر کے دائرے میں تمام تجارتی سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔ کورٹ نے آگرہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے کہا ہے کہ وہ اس ہدایت کی تعمیل کو یقینی بنائے۔ پیر کو جاری کردہ ایک حکم میں سپریم کورٹ نے ایک درخواست کی اجازت دی جس میں 17ویں صدی کی یادگار تاج محل کے 500 میٹر کے دائرے میں تجارتی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایت کی درخواست کی گئی۔

      بنچ نے کہا کہ آگرہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت دیں کہ وہ تاج محل کی حدود کے 500 میٹر کے اندر تمام کاروباری سرگرمیاں ہٹائے۔ یہ کارروائی آئین ہند کے دفعہ 14 کے مطابق ہوگی۔ بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ اے ڈی این راؤ کی عرضیوں کو ریکارڈ پر لیا، جو عدالت کی معاون کی حیثیت سے معاونت کر رہے ہیں۔ کورٹ نے کہا کہ تاج محل کے قریب تمام تجارتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ہدایات جاری کرنا محفوظ یادگار کے مفاد میں ہوگا۔ راؤ نے نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ نے مئی 2000 میں بھی اسی طرح کا حکم جاری کیا تھا لیکن وقت کے گزرنے کے پیش نظر اس ہدایت کا اعادہ کرنا ہی مناسب ہے۔

      بنچ نے سینئر وکیل سے اتفاق کیا اور آگرہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت دی کہ تاج محل کے 500 میٹر کے دائرے کو تمام تجارتی سرگرمیوں سے فوری طور پر خالی کر دیا جائے۔ یہ حکم دکانوں کے مالکان کے ایک گروپ کی درخواست پر دیا گیا ہے، جنہیں 500 میٹر کے دائرے سے باہر جگہ الاٹ کی گئی ہے۔ درخواست گزار کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ایم سی ڈھینگرا نے تاج محل کے مغربی دروازے کے قریب گزشتہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی شکایت کی کیونکہ غیر قانونی کاروباری سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ ڈھینگرا نے بینچ پر زور دیا کہ وہ سرگرمیوں کو روکنے اور حکام کو تعمیل کے لیے ذمہ دار بنانے کے لیے مناسب احکامات جاری کرے۔

      یہ بھی پڑھیں:


      1984 میں ماہر ماحولیات ایم سی مہتا کی ایک مفاد عامہ کی عرضی کے بعد سپریم کورٹ، تاج محل کے تحفظ کے لیے علاقے میں ہونے والی پیش رفت کی نگرانی کر رہی ہے، جسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے 1631 میں اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کیا تھا۔ اسے یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ کا درجہ بھی حاصل ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: