ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بڑی خبر:بیرون ملک سے ہندوستان آنے والی تمام پروازوں پر 22مارچ سے پابندی،وزارت خارجہ کا اعلان

کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے سخت اقدامات کرتے ہوئے ، مرکزی حکومت نے 22 مارچ سے بیرون ملک سے آنے والی تمام پروازوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے اور یہ پابندی ایک ہفتے تک برقرار رہے گی ۔

  • Share this:
بڑی خبر:بیرون ملک سے ہندوستان آنے والی تمام پروازوں پر 22مارچ سے پابندی،وزارت خارجہ کا اعلان
کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے سخت اقدامات کرتے ہوئے ، مرکزی حکومت نے 22 مارچ سے بیرون ملک سے آنے والی تمام پروازوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے اور یہ پابندی ایک ہفتے تک برقرار رہے گی ۔

حکومت نے کورونا وائرس 'كووڈ -19' کے پیش نظر 22 مارچ سے سبھی بین الاقوامی مسافر پروازوں کے ہندوستان میں اترنے پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ پابندی فی الحال ایک ہفتے کے لئے لگائی گئی ہے۔ایک سرکاری حکم میں کہا گیا ہے کہ 22 مارچ سے ایک ہفتے تک کوئی بھی باقاعدہ بین الاقوامی مسافر پرواز ملک کی سرحد میں نہیں اتر سکے گی۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ طیارے سروس کمپنیوں کو اپنی ساری بین الاقوامی پروازیں منسوخ کرنی پڑیں گی۔اس کے علاوہ ٹرینوں اور طیاروں میں مسافروں کی تعداد کم سے کم کرنے کے لئے طالب علموں، مریضوں اور معذروں کے علاوہ تمام زمرے میں رعایتی سفر کی ٹکٹ بکنگ آج آدھی رات سے اگلے حکم تک زیر التوا رہے گی۔ ریلوے نے بتایا کہ اس زمرے کی 53 میں سے 38 زمروں کی رعایتیں ختم کر دی گئی ہیں۔


کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے سخت اقدامات کرتے ہوئے ، مرکزی حکومت نے 22 مارچ سے بیرون ملک سے آنے والی تمام پروازوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی
کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے سخت اقدامات کرتے ہوئے ، مرکزی حکومت نے 22 مارچ سے بیرون ملک سے آنے والی تمام پروازوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی


مرکزی وزارت خارجہ کا یہ بیان مبینہ طور پر ایران میں پھنسے ہوئے متاثرہ ہندوستانیوں کے تناظر میں آیاہے۔ ایم ای اے کے ترجمان نے کہا ، "ایران میں کورونا وائرس سے متاثر ہ ہندوستانی شہریوں کی مناسب طبی دیکھ بھال کی جارہی ہے اور وہ جلد ہی صحت یاب ہوجائیں گے۔رویش کمار نے مزید کہا ، "بیرون ملک تمام ہندوستانیوں کو پہلا مشورہ یہ ہے کہ وہ جہاں رہیں وہیں رہیں۔ ہم نے ایران سے 590 افراد کو وہاں سے نکالا ہے۔ جہاں صورتحال بہت سنگین ہے۔ ایران میں کورونا وائرس سے متاثرہ ہندوستانیوں کو الگ الگ رکھا گیاہے اور ان کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ صحتیاب ہوجائیں گے اور ہم انہیں واپس لائیں گے۔ "


مرکزی حکومت نے ریاستوں کو 65 سال سے زائد عمر کے سینئر شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دینے کے لئے کہا ہے۔ اس میں لوک نمائندوں، سرکاری ملازمین اور طبی شعبے میں کام کرنے والوں کو چھوٹ ہوگی۔ دس سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو بھی گھروں پر ہی رہنے اور باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ریاستوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ہنگامی اور ضروری خدمات کے علاوہ نجی شعبے کے دیگر تمام ملازمین کے لئے گھر سے کام کرنا یقینی بنائیں۔

حکم میں 65 سے زیادہ عمر (طبی اسباب کے چھوڑکر، عوامی نمائندے، سرکاری ملازم اور طبی ماہرین کے علاوہ) اور دس برس سے کم عمر کے بچوں کو گھر میں رہنے کی صلاح دی گئی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والوں کو گھر سے ہی کام کرنے کے لے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔ یہ حکم ضروری خدمات اور ایمرجنسی خدمات انجام دینے والوں پر نافذ نہیں ہوگا۔بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے کے لئے گروپ بی اور سی کے مرکزی ملازمین کو ایک ہفتہ چھوڑکر دفتر آنے کے لئے کہا گیا ہے۔

یواین آئی کے ان پٹ کےساتھ نیوز18 اردو کی رپورٹ
First published: Mar 19, 2020 06:17 PM IST