உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    RSS Chief on Violence:’تشدد سے کسی کو نہیں ہوتا فائدہ‘:آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت

    آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت۔ (فائل فوٹو)

    آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت۔ (فائل فوٹو)

    RSS Chief on Violence: آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ ہندوستان ایک کثیر لسانی ملک ہے اور ہر زبان کی اپنی اہمیت ہے۔ بھاگوت بھانکھیڑا روڈ پر کنور رام دھام میں سنت کنور رام کے پڑپوتے سائی راج لال موردیا کے 'گدی نشینی' پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کر رہے تھے۔

    • Share this:
      RSS Chief on Violence:نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت نے جمعرات کو کہا کہ تشدد سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا اور تمام برادریوں کو ساتھ لانے اور انسانیت کی حفاظت کرنے کی ضرورت پر انہوں نے زور دیا۔ بھاگوت کا یہ بیان ملک کے کئی حصوں میں مختلف گروپوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے پس منظر میں آیا ہے۔ بھاگوت نے سندھی زبان اور ثقافت کے وجود کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں سندھی یونیورسٹی قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

      آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ ہندوستان ایک کثیر لسانی ملک ہے اور ہر زبان کی اپنی اہمیت ہے۔ بھاگوت بھانکھیڑا روڈ پر کنور رام دھام میں سنت کنور رام کے پڑپوتے سائی راج لال موردیا کے 'گدی نشینی' پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کر رہے تھے۔ اس تقریب میں امراوتی ضلع اور ملک کے مختلف حصوں سے سندھی برادری کے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

      آر ایس ایس سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ تشدد کسی کو فائدہ نہیں پہنچاتا اور تمام برادریوں کو ساتھ لانے اور انسانیت کی حفاظت پر زور دیا۔ بھاگوت نے کہا، ’’تشدد سے کسی کا بھلا نہیں ہوتا۔ تشدد پسند معاشرہ اب اپنے آخری دن گن رہا ہے۔ ہمیں ہمیشہ عدم تشدد اور امن پسند رہنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام برادریوں کو اکٹھا کیا جائے اور انسانیت کی حفاظت کی جائے۔ ہم سب کو یہ کام ترجیحی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے۔‘

      یہ بھی پڑھیں:
      پنجاب میں ملے انسانی ڈھانچوں پر بڑا انکشاف-1857 میں کیا گیا تھاان ہندوستانی فوجیوں کاقتل

      آر ایس ایس لیڈر بھاگوت کا یہ تبصرہ تقریباً نصف درجن ریاستوں بشمول بی جے پی کی حکومت والی مدھیہ پردیش اور گجرات میں رام نومی اور ہنومان کی سالگرہ کی تقریبات کے دوران فرقہ وارانہ جھڑپوں کے پس منظر میں آیا ہے۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ سندھی برادری نے ملک کی ترقی میں بہت زیادہ تعاون کیا ہے، بھاگوت نے سندھی ثقافت اور زبان کے فروغ اور تحفظ کے لیے سندھی یونیورسٹی کی ضرورت پر زور دیا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      بلقیس بانو کیس میں15سال سزا کاٹ چکا قیدی وقت سے پہلے رہائی کے لئے پہنچا سپریم کورٹ

      آر ایس ایس رہنما نے کہا، ’’کچھ سندھی بھائی اپنے مذہب اور زمین کی حفاظت کے لیے پاکستان میں ٹھہرے تھے اور بہت سے لوگ زمین کی قیمت پر اپنے مذہب کی حفاظت کے لیے ہندوستان آئے تھے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ سندھی برادری کو مرکزی حکومت پر یونیورسٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالنا چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’سماج ایک سندھی یونیورسٹی اور ایک متحدہ ہندوستان(اکھنڈ بھارت) کے لیے پرجوش ہے۔ ان جذبات کا اظہار اس فورم پر بھی ہوا۔ مجھ سے سندھی یونیورسٹی کے لیے کوششیں کرنے کی اپیل کی گئی لیکن میں حکومت کا حصہ نہیں ہوں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: