உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرتار پورزائرین کےلئے تھوڑی راحت :پاسپورٹ اورپیشگی رجسٹریشن سےملی نجات

    کرتارپورکاریڈور: فائل فوٹو

    کرتارپورکاریڈور: فائل فوٹو

    وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کرتار پور صاحب راہداری آنے والے عقیدت مندوں کے لیے دوبڑی راحتوں کا اعلان کیا ہے

    • Share this:
      وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کرتار پور صاحب راہداری آنے والے عقیدت مندوں کے لیے دوبڑی راحتوں کا اعلان کیا ہے۔ عقیدت مندوں کو یہاں آنے کے لئے اب پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف ایک درست آئی ڈی یعنی شناختی کارڈ لانا ہوگا۔ اسی طرح ، انہیں 10 دن پہلےرجسٹریشن کروانے کے لزوم سے بھی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ، افتتاحی روز عقیدت مندوں سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔

       

      دوسری طرف ، اکالی دل کے رہنما سکھبیر سنگھ بادل کرتار پور صاحب جانے والے عقیدت مندوں پر 20امریکی ڈالر(1420 ہندوستانی روپیوں پرمبنی) کی فیس عائد کرنے پرنے اعتراض جتایاہے۔انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سفر کو آمدنی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ دوسری جانب وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جو لوگ کرتار پورراہداری کے ذریعہ گوردوارہ دربار صاحب جانے والے ہندوستان کے سرکاری وفد کا حصہ نہیں ہیں ، انہیں وہاں جانے کے لئے معمول کے طریقہ کار کے مطابق سیاسی منظوری حاصل کرنا ہوگا۔  





      وزارت خارجہ نے ایک ایسے وقت اپنے ردعمل کا اظہا کیا جب پاکستان نے کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے کرکٹر سے سیاستدان بنے نوجوت سنگھ سدھوکو مدعو کیا تھا۔

       کرتار پورزائرین کےلئے تھوڑی راحت۔(فوٹو:نیوز18ہندی)۔
      کرتار پورزائرین کےلئے تھوڑی راحت۔(فوٹو:نیوز18ہندی)۔


      کرتار پورراہداری کا 9 نومبر کو ہوگا افتتاح

      خبر ہے کہ پاکستان نے نوجوت سنگھ سدھو کوتاریخی کرتار پورراہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ یہ راہداری 9 نومبر کوعقیدت مندوں کیلئے کھولی جائے گی۔ مرکزی حکومت کے ذرائع نے بتایا تھا کہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ ، پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ اور مرکزی وزیرہریدیپ پوری 545 افراد میں شامل تھے جو افتتاحی تقریب اورگوردوارہ دربار صاحب کی زیارت میں شرکت کریں گے۔

      ہندوستان کی فہرست میں شامل نہیں ہے سدھو کا نام ۔(فوٹو:نیوز18ہندی)۔
      ہندوستان کی فہرست میں شامل نہیں ہے سدھو کا نام ۔(فوٹو:نیوز18ہندی)۔


      ہندوستان کی فہرست میں شامل نہیں ہے سدھو کا نام

      وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ جو فہرست شیئر کی ہے اس میں مرکزی وزراء اور پنجاب حکومت کے لوگوں سمیت سیاست کے مختلف حصوں کی مشہور شخصیات شامل ہیں۔ . یہ پوچھے جانے پر کہ کیا مشترکہ فہرست میں سدھو کا بھی نام ہے ،توانہوں نے کہا سدھو کا نام فہرست میں نہیں ہے، رویشن کمار نے کہا کہ جن لوگوں کے نام فہرست میں نہیں ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ انہیں سیاسی منظوری حاصل کرنا ہوگا۔
      First published: