ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

Narada scam:گرفتار ٹی ایم سی لیڈروں کو عدالت سے آج نہیں ملی کوئی راحت، کل پھرہوگی سماعت

اب کل دوبارہ2 بجے اس معاملے کی سماعت ہوگی ۔قائم مقام چیف جسٹس کی قیادت والی ڈویژن بنچ میں ترنمول کانگریس کے لیڈروں وکلا اور سی بی آئی کی جانب سے پیش ہونے والے سالسٹر جنرل تشار مہتا کے درمیان سخت بحث ہوئی۔تاہم سبرتو مکھرجی کے وکیل نے سالیسٹرجنرل پر الزام عاید کیا کہ انہوں نے جا ن بوجھ کر اس معاملے کی سماعت میں تاخیر سے کام لیاہے۔

  • UNI
  • Last Updated: May 19, 2021 06:37 PM IST
  • Share this:
Narada scam:گرفتار ٹی ایم سی لیڈروں کو عدالت سے آج نہیں ملی کوئی راحت، کل پھرہوگی سماعت
چیف جسٹس کے ڈویژن بنچ نے بتایا کہ جمعرات کی دوپہر 2 بجے سے کیس کی دوبارہ سماعت ہوگی۔

ناردا اسٹنگ آپریشن معاملے میں گرفتار ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈران سبرتو مکھرجی، فرہاد حکیم ،مدن مترا اور سابق ریاستی وزیر شوبھن چٹرجی کی درخواست ضمانت پر آج بھی کلکتہ ہائی کورٹ کوئی فیصلہ نہیں سناسکی ہے۔اب کل دوبارہ دو بجے اس معاملے کی سماعت ہوگی ۔قائم مقام چیف جسٹس کی قیادت والی ڈویژن بنچ میں ترنمول کانگریس کے لیڈروں وکلا اور سی بی آئی کی جانب سے پیش ہونے والے سالسٹر جنرل تشار مہتا کے درمیان سخت بحث ہوئی۔تاہم سبرتو مکھرجی کے وکیل نے سالیسٹرجنرل پر الزام عاید کیا کہ انہوں نے جا ن بوجھ کر اس معاملے کی سماعت میں تاخیر سے کام لیا ہے۔ڈھائی گھنٹے تک چلی اس بحث میں تشار مہتا نے ان لیڈروں کی گرفتاری کے خلاف ترنمول کانگریس کے حامیوں کے احتجاج اور ممتا بنرجی کی سی بی آئی کے دفتر میں موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنگال میں موجودہ صورت حال اس کیس پر سماعت کے لایق نہیں ہے ۔اس لئے اس معاملے کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔تشار مہتا نے کہا کہ ممتا بنرجی نے سی بی آئی کے افسران پر دبائو بنانے کی کوشش کی ۔اسی دبائو کا نتیجہ ہے کہ نچلی عدالت کے جج نے ان لوگوں کی ضمانت کو منظور ی دیدی۔انہوں نے کہاکہ وزیر قانون نچلی عدالت میں خود پیش ہوئے اور اس کی وجہ سے دبائو بنا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے سی بی آئی مناسب طریقے سے کام نہیں کر سکی ہے۔



دوسری طرف ابھیشیک منو سنگھوی نے تشار مہتا کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ضمانت کی درخواست اور احتجاج کے مابین کوئی تعلق نہیں ہوئی ہے۔ جن رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ طویل عرصے سے عوامی نمائندے ہیں ۔ان کے خلاف ابھی کوئی جرم ثابت نہیں ہے ۔انہوں نے جانچ کے دوران سی بی آئی کے ساتھ تعاون کیا ہے ۔ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ ممتا بنرجی نے گاندھی جی کے طرز پر احتجاج کیا اور یہ ان کا جمہوری حق ہے ۔


ابھیشیک منو سنگھوی نے سبرتو مکھرجی کی عمر اور بیماری اور دیگر لیڈروں کے اعذار کو پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان لوگوں نے اس پورے معاملے میں گزشتہ پانچ سالوں میں تعاون کیا ہے اس لئے ان کی ضمانت منظور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید دعوی کیا کہ وزیر اعلی سی بی آئی آفس گئے تھے اور صرف اپنے ساتھیوں سے ہمدردی ظاہر کی۔ انہوں نے کوئی بدامنی پیدا نہیں کی۔سبرت مکھرجی کے وکیل نے الزام لگایا کہ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے جان بوجھ کر سماعت میں تاخیر کی ہے۔
منو سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ جب عوامی لیڈران کی گرفتاری ہوتی ہے تو ان کے حامی احتجاج و مظاہرہ کرتے ہیں ۔مگر ان لیڈروں نے پرسکون رہنے کی اپیل کی اور احتجاج کو مشتعل کرنے کی کوئی اپیل نہیں کی ہے۔ رہنماؤں نے احتجاج کو مشتعل کیا یہ الزامات درست نہیں ہیں اور اگر آپ احتجاج کرتے ہیں تو آپ کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا یہ عوام کا جمہوری حق ہے۔
تاہم دوطرفہ دلائل سننے کے بعد قائم مقام چیف جسٹس کے ڈویژن بنچ نے بتایا کہ جمعرات کی دوپہر 2 بجے سے کیس کی دوبارہ سماعت ہوگی۔

سبرتو مکھرجی ، مدن مترا اور شوبھن چٹرجی ، جنہیں نارداکیس میں گرفتار کیا گیا تھا ، فی الحال ایس ایس کے ایم اسپتال میں زیر علاج ہیں۔جب کہ فرہاد حکیم پریڈنسی جیل میں ہیں ۔انہیں بخار کی شکایت ہوئی تھی مگر کورونا کی رپورٹ نیگیٹیو آئی ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 19, 2021 06:36 PM IST