ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مرکزی حکومت کا بڑا فیصلہ ، خاص زمروں کو چھوڑ کر صعنتی آکسیجن کی سپلائی بند

داخلہ سکریٹری کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل آکسیجن کی بلا رکاوٹ بین ریاستی ٹرانسپورٹیشن کیلئے متعلقہ محکموں کو پہلے سے ہی ہدایات دی جائیں ۔ کسی بھی آکسیجن مینوفیکچرر یا سپلائر پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے کہ وہ آکسیجن صرف اسی ریاست کو دے سکتے ہیں ، جہاں پر پلانٹ موجود ہے ۔

  • Share this:
مرکزی حکومت کا بڑا فیصلہ ، خاص زمروں کو چھوڑ کر صعنتی آکسیجن کی سپلائی بند
مرکزی حکومت کا بڑا فیصلہ ، خاص زمروں کو چھوڑ کر صعنتی آکسیجن کی سپلائی بند

نئی دہلی : کورونا کی دوسری لہر میں ملک بھر میں میڈیکل آکسیجن کی کمی کی خبروں کے درمیان وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اگلے حکم تک صنعتی آکسیجن کی سپلائی بند رہے گی ۔ حالانکہ کے کچھ خاص زمروں کو چھوٹ دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ میڈیکل آکسیجن کی نقل و حمل میں کوئی رکاونٹ نہیں ہونی چاہئے ۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل آکسیجن کی بین ریاستی ٹرانسپورٹیشن میں کسی بھی طرح کی رکاونٹ نہیں پیدا ہونی چاہئے ۔


داخلہ سکریٹری کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل آکسیجن کی بلا رکاوٹ بین ریاستی ٹرانسپورٹیشن کیلئے متعلقہ محکموں کو پہلے سے ہی ہدایات دی جائیں ۔ کسی بھی آکسیجن مینوفیکچرر یا سپلائر پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے کہ وہ آکسیجن صرف اسی ریاست کو دے سکتے ہیں ، جہاں پر پلانٹ موجود ہے ۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہروں کے اندر میڈیکل آکسیجن والی گاڑیوں کو کسی بھی وقت کی پابندی کے بغیر چلنے دیا جائے ۔


ادھر ملک میں کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات کے درمیان سپریم کورٹ نے کورونا کی موجودہ صورتحال پر از خود نوٹس لیا ہے ۔ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس بھیجا ۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے آج سپریم کورٹ کو بتایا کہ ملک کو آکسیجن کی سخت ضرورت ہے ۔


سپریم کورٹ نے آکسیجن کی سپلائی اور ضروری دواوں کے پیش نظر از خود نوٹس لیا ۔ سی جے آئی ایس اے بوبڈے نے کہا کہ عدالت اس معاملہ کی سماعت کل کرے گی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 22, 2021 05:06 PM IST