உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہیٹ اسپیچ پر پارٹیوں کی حیثیت مسترد کرنے کا حق نہیں، الیکشن کمیشن نے ظاہر کی مجبوری

    الیکشن کمیشن آف انڈیا۔ فائل فوٹو ۔

    الیکشن کمیشن آف انڈیا۔ فائل فوٹو ۔

    الیکشن کے اعلان کے بعد اور عمل پورا ہونے تک سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کی رہنمائی کے لئے ’انتخابی ضابطہ اخلاق‘ اور ’کیا کریں اور کیا نہ کریں‘ پہلے ہی جاری ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad, India
    • Share this:
      الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ نفرت پھیلانے والے بیانوں (ہیٹ اسپیچ) کے معاملے میں پارٹیوں کی حیثیت مسترد کرنے کا اس کے پاس کوئی حق نہیں ہے۔ کمیشن نے عدالت عظمیٰ میں دائر حلف نامے میں کہا کہ الیکشن کے دوران نفرت پر مبنی بیانوں اور افواہ پھیلانے پر خصوصی قانون کی کمی میں اسے تعزیرات ہند (آئی پی سی ) و عوامی نمائندگی قانون کے پروویژنوں کو لاگو کرنا ہوتا ہے۔

      بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی کمار اُپادھیائے کی مفاد عامہ کی عرضی پر تحریری جواب میں کمیشن نے کہا، وہ امیدوار یا اس کے ایجنٹ کے ان بیانوں پر نظر رکھتا ہے جو مذہب، ذات، طبقہ یا زبان کی بنیاد پر طبقوں کے درمیان دشمنی یا نفرت کو بڑھاوا دینے کی کوشش کرنے والے ہوتے ہیں۔

      الیکشن کے اعلان کے بعد اور عمل پورا ہونے تک سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کی رہنمائی کے لئے ’انتخابی ضابطہ اخلاق‘ اور ’کیا کریں اور کیا نہ کریں‘ پہلے ہی جاری ہے۔ ان میں واضح ہے کہ ووٹروں سے ذات یا فرقہ کی بنیاد پر کوئی اپیل نہیں ہونی چاہیے۔ مختلف ذاتوں، طبقوں، مذہبوں، لسانی گروپوں کے درمیان تناو بھی پیدا نہ ہو۔

      مانگی جاتی ہے وضاحت
      کمیشن نے بتایا، الیکشن کمیشن ایسے معاملوں میں متعلقہ امیدوار یا اس شخص کو وجہ بتاو نوٹس جاری کرتا ہے، جو اس سے وضاحت طلب کرتا ہے۔ اس کے جواب کی بنیاد پر وہ فیصلہ جاری کرتا ہے۔

      لاء کمیشن کی سفارش نہیں
      الیکشن کمیشن نے بتایا کہ، 2014 میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق لاء کمیشن نے اس معاملے کی جانچ کی کہ آیا الیکشن کمیشن کو کسی سیاسی جماعت یا اس کے اراکین کو نااہل قرار دینے کا اختیار دیا جانا چاہیے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      حکومت کرناٹک کواسکول یونیفارم لازمی کرنے کااختیارحاصل، حجاب کیس میں سپریم کورٹ کاموقف

      یہ بھی پڑھیں:
      ایس سی-ایس ٹی اور OBCکے لئے77فیصد ریزرویشن،مستقل رہائشی کے لئے1932کازمینی ریکارڈ بناریکارڈ

      • لا کمیشن نے نفرت انگیز تقاریر کی لعنت کو روکنے کے لیے کمیشن کو بااختیار بنانے کے لیے نہ تو کوئی واضح تجویز دی اور نہ ہی پارلیمنٹ کو کوئی سفارش کی۔

      • پی آئی ایل میں سپریم کورٹ سے مرکز کو ہدایت دینے کی خواہش کی گئی ہے کہ وہ انتخابات کے دوران اشتعال انگیز تقاریر اور افواہوں سے نمٹنے کے لیے موثر اور سخت اقدامات کرے۔

      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: