ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

لو جہاد قانون پر نوبل انعام یافتہ امرتيہ سین نے دیا بڑا بیان : جہاں محبت ہوتی ہے وہاں جہاد نہیں ہوتا

امرتيہ سین نے کہا کہ جہاں محبت ہوتی وہاں جہاد نہیں ہوتا یہ ایک ذاتی حق ہے اس میں دخل اندازی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص مذہب تبدیل کر سکتا آئین نے یہ حق دیا ہے جبکہ لو جہاد غیر آئینی ہے انہوں نے سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ اس قانون کو غیر آئینی قرار دینے کے لئے سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ درج کیا جانا چاہئے

  • Share this:
لو جہاد قانون پر نوبل انعام یافتہ امرتيہ سین نے دیا بڑا بیان : جہاں محبت ہوتی ہے وہاں جہاد نہیں ہوتا
لو جہاد قانون پر نوبل انعام یافتہ امرتيہ سین نے دیا بڑا بیان۔ (تصویر: فائل فوٹو ، نیوز18)۔

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو فطری ہوتا ہے جس پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔ محبت نہ عمر دیکھتی ہے نہ مذہب۔ دل کے ہاتھوں مجبور محبت کے کئی ایسے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتی ہے جس پر اعتراض اور مخالفت بھی کی جاتی ہے لیکن محبت سے سرشار جوڑا ان تمام اختلافات کو نظر انداز کرتے نظر آتے ہیں۔ ملک میں ان دنوں لو جہاد کا چرچا زوروں پر ہے کئی ریاستوں میں لو جہاد پر قانون بنا کر محبت کے نام پر مذہب کی تبدیلی پر روک لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہیں اس سیاسی اقدمات کی مخالفت بھی کی جارہی ہے۔ نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں لوجہادکے نام پر بننے والے قانون کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی۔


امرتيہ سین نے کہا  کہ جہاں محبت ہوتی وہاں جہاد نہیں ہوتا یہ ایک ذاتی حق ہے اس میں دخل اندازی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص مذہب تبدیل کر سکتا آئین نے یہ حق دیا ہے جبکہ لو جہاد غیر آئینی ہے انہوں نے سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ اس قانون کو غیر آئینی قرار دینے کے لئے سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ درج کیا جانا چاہئے اس طرح کا قانون آئین کی توہین ہے۔امرتیہ سین نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں لوجہاد کے نام پر قانون سازی کی جارہی ہے ساتھ ہی امرتيہ سین کو وشوا بھارتی یونورسٹی کی زمین کے تعلق سے تنقید كا نشانہ بنایا جارہا ہے۔



نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے سین نے کہا ہے کہ اس طرح کا قانون نافذ کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور سپریم کورٹ کو اس میں مداخلت کرنی چاہئے۔ ایک غیر ملکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سین نے کہا کہ لو جہاد کے نام پر قانون سازی تشویشناک ہیں۔ یہ انسانی آزادی میں مداخلت کرتا ہے۔ زندگی کے حق کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے لیکن اس قانون کے نتیجے میں انسانی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے۔سین نے کہا کہ کوئی بھی شخص اپنا مذہب تبدیل کرسکتا ہے ، اس کی آئین نے ضمانت دی ہے ہے۔ لہذا لو جہاد قانون غیر آئینی ہے ۔امرتیہ سین نے کہا کہ سپریم کورٹ کو فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے۔ اس قانون کو غیر آئینی قرار دینے کے لئے سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ درج کیا جانا چاہئے۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہندوستان میں۔ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اکبر کے زمانے میں ، ایک قاعدہ تھا کہ کوئی بھی فرد کسی بھی مذہب کو اپنا سکتا ہے اور کسی بھی مذہب میں شادی کرسکتا ہے ۔

ہمارے ملک میں یہ کلچر ہے۔ ہمارا آئین انفرادی آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے بارے میں بہت واضح ہے۔ نتیجہ کے طور پر ، اس طرح کا قانون آئین کی توہین ہے۔انہوں نے کہا کہ لوکا کو ئی جہاد نہیں ہے۔ اگر آپ کسی دوسرے مذہب کے فرد سے محبت کی شادی کر لیتے ہیں تو ، اس میں کوئی جہاد نہیں ہوسکتا ہے۔ اس طرح کا مذہب چھوڑنے اور دوسرا مذہب اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بھارت کی توہین کی جارہی ہے۔ یہ ہندوستان کی ثقافت نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ عدالت اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لو جہاد جیسا قانون ہندوستان کی ثقافت پر بڑا حملہ ہے اور سپریم کورٹ کو اس کے خلاف فوری اقدامات کرنا چاہئے۔امرتیہ سین کے یہ ریمارکس ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستیں یکے بعد دیگرے لوجہاد کے نام پر قانون سازی کررہے ہیں ۔

 
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Dec 29, 2020 11:35 PM IST