ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آروگیہ سیتو ایپ میں اردو زبان کو نظر انداز کئے جانے پر اردو داں طبقہ میں ناراضگی

دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے لیے بنائے گئے  سافٹ ویئر  میں اردو زبان کا نہ ہونا خود ایپلیکیشن کی افادیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

  • Share this:
آروگیہ سیتو ایپ میں اردو زبان کو نظر انداز کئے جانے پر اردو داں طبقہ میں ناراضگی
آروگیہ سیتو ایپ میں اردو زبان کو نظر انداز کئے جانے پر اردو داں طبقہ میں ناراضگی

نئی دہلی: کورونا وائرس (کووڈ۔19) کی روک تھام اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے بنائے گئے آروگیہ سیتو ایپ کو لے کر اردو والوں کی ناراضگی کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ اس ایپلیکیشن میں اردو زبان کو شامل کئے جانے کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا ہے۔ دراصل پورے ملک میں کورونا وائرس کی بیماری کو دیکھتے ہوئے حکومتی سطح پر آروگیہ سیتو نام کی اپلیکیشن لائی گئی ہے تاکہ لوگ نہ صرف احتیاطی تدابیر سے واقف ہوں ہو بلکہ بہتر طور پر اپنا علاج معالجہ بھی کر سکیں اور ان میں بیداری آئے  تاہم اس ایپلیکیشن میں جہاں انگریزی کے ساتھ ساتھ 11  علاقائی زبانوں کو شامل کیا گیا ہے تو وہی اردو کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔


آروگیہ سیتو اپلیکیشن سافٹ ویئر میں انگریزی زبان کے علاوہ  ہندی، گجراتی، مراٹھی جیسی زبانوں سمیت کل 12 زبانیں رکھی گئی ہیں، لیکن کشمیر، دہلی، بہار، مغربی بنگال، تلنگانہ  اور دوسری ریاستوں کئی ریاستوں کی سرکاری زبان ہونے کے باوجود  اردو کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور دو مہینے سے زیادہ کا وقت گزر جانے کے بعد بھی ابھی اپلیکیشن میں زبان کا زمرہ اردو زبان کے ساتھ اپڈیٹ نہیں کیا گیا۔ ایسے میں اردو والوں کے پاس ناراضگی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور اردو داں طبقہ کافی ناراض ہے۔


پروفیسر شہپر رسول کا نے کہا ہے کہ آروگیہ سیتو اپلیکیشن سافٹ ویئر سے متعلق خط لکھیں گے۔
پروفیسر شہپر رسول کا نے کہا ہے کہ آروگیہ سیتو اپلیکیشن سافٹ ویئر سے متعلق خط لکھیں گے۔


دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول کا کہنا ہے  وہ اس سلسلے میں خط لکھیں گے کیوں کہ اس میں صرف ان لوگوں کا نقصان نہیں ہے جو اردو زبان جانتے ہیں بلکہ خود اپلیکیشن کا بھی نقصان ہے۔ پروفیسر شہپر رسول کا کہنا ہےاردو زبان ان ملک کے زیادہ تر حصوں میں رابطہ کی زبان کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ ہر ریاست  میں اردو زبان اور اردو رسم الخط کے جاننے والے موجود ہیں۔ ایسے  میں کورونا وائرس کے لیے بنائے گئے  سافٹ ویئر  میں اردو زبان کا نہ ہونا خود ایپلیکیشن کی افادیت پر سوال اٹھاتا ہے اور اس کو محدود کرتا ہے۔ انہوں نے کہا دہلی اردو اکیڈمی ایک اردو کا ادارہ ہے اور وہ اس سلسلے میں  حکومت کو خط لکھیں گے۔
First published: May 14, 2020 07:19 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading