ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

نور خان نے 43 سال تک ہندو خاتون پنچو بائی شندے کی خدمت

پنچو بائی شندے کا تعلق ناگپور کے ڈپٹی سگنل وردھمان نگر سے ہے۔ 43 سال پہلے پنچوبائی شندے کا ذہنی توازن خراب ہوا اور گھر سے وہ تو پھر برسوں تک گھر ہی نہیں پہنچیں۔ پنچو بائی شندے کسی طرح بھٹکتی ہوئی مدھیہ پردیش کے دموہ کے کوٹا تلا گاؤں پہنچ گئیں۔

  • Share this:
نور خان نے 43 سال تک ہندو خاتون پنچو بائی شندے کی خدمت
نور خان نے 43 سال تک ہندو خاتون پنچو بائی شندے کی خدمت

بھوپال: ہمارے سماج میں جہاں مذہب کے نام پر نفرت اتنی عام ہوگئی ہے کہ اب بہت سے لوگ ایک دوسرے کی صورت دیکھنا پسند نہیں کرتے ہیں، ایسے میں اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ ایک ہندو خاتون کی ایک دو دن نہیں بلکہ 43 سال تک کسی مسلم نے خدمت کی ہے تو نہ سننے والے کو یقین ہوگا اور نہ ہی کوئی دیکھنے کے بعد یقین کرے گا، لیکن انسانی خدمت کی یہ عظیم داستان مدھیہ پردیش کے دموہ کے کوٹا تلا گاؤں میں لکھی گئی ہے، جہاں نورخان نے پنچو بائی شندے کی 43 سال تک بے بولوث خدمت کی ہے۔

پنچو بائی شندے کا تعلق ناگپور کے ڈپٹی سگنل وردھمان نگر سے ہے۔ 43 سال پہلے پنچوبائی شندے کا ذہنی توازن خراب ہوا اور گھر سے وہ تو پھر برسوں تک گھر ہی نہیں پہنچیں۔ پنچو بائی شندے کسی طرح بھٹکتی ہوئی مدھیہ پردیش کے دموہ کے کوٹا تلا گاؤں پہنچ گئیں۔ وہاں جنگل میں پنچو بائی شندے پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کردیا اور وہ بری طرح زخمی ہوکر جنگل میں پڑی ہوئی تھیں۔ اتفاقاً کوٹا تلا کے نور خان کا وہاں سے گزرہوا اور انہوں نے جب پنچو بائی شندے کو زخمی حالت میں وہاں پڑا دیکھا تو ان سے رہا نہیں گیا اور وہ پنچوبائی شندے کولے کر گھر آئے اور ان کا علاج شروع کیا۔ صحتیاب ہونے کے بعد جب پنچوبائی اپنے گھر اور اہل خانہ کے بارے میں کوئی صحیح جانکاری نہیں دے سکیں تو نور خان نے پنچو بائی شندے کی گھر کے ایک فرد کی طرح خدمت شروع کردی۔

نور خان اپنی زندگی میں پنچوبائی شندے کو انکے اپنوں تک  پہنچا نے کا کارنامہ تو انجام نہیں دے سکے۔ لیکن نور خان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے اسرار خان نے اپنے والد کے ادھورے خواب کو پورا کرنے کے لئے پنچو بائی شندے کا ایک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔ ویڈیو کسی طرح سے ناگپور پہنچا اور پنچو بائی شندے کے پوتے پرتھوی کمار شندے نے اپنی دادی کو پہچان لیا اور ویڈیو کے پتہ پر اپنی اہلیہ کے ساتھ 43 سال قبل غائب ہوئی اپنی دادی کو لینے کے لئے پہنچ گئے۔

پنچو بائی شندے کو لے جانے کے لئے جب ان کے اپنے دموہ کے کوٹا تلا گاؤں میں پہنچے تو گاؤں کے لوگوں کا ہجوم لگ گیا۔ گاؤں کی ایک بڑی آبادی تو جانتی بھی نہیں تھی کہ پنچو بائی کا تعلق یہاں سے نہیں ہے بلکہ وہ انہیں نور خان کے گھر کا ہی فرد سمجھتے تھے۔ پنچو بائی کے پوتے نے نور خان کے بیٹے اسرار خان سے ملاقات کی اور اپنی دادی کو لے جانے کی پیشکش کی تو دونوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔


پنچو بائی شندے کا تعلق ناگپور کے ڈپٹی سگنل وردھمان نگر سے ہے۔ 43 سال پہلے پنچوبائی شندے کا ذہنی توازن خراب ہوا اور گھر سے وہ تو پھر برسوں تک گھر ہی نہیں پہنچیں۔
پنچو بائی شندے کا تعلق ناگپور کے ڈپٹی سگنل وردھمان نگر سے ہے۔ 43 سال پہلے پنچوبائی شندے کا ذہنی توازن خراب ہوا اور گھر سے وہ تو پھر برسوں تک گھر ہی نہیں پہنچیں۔


پنچوبائی شندے کے پوتے پرتھوی کمار شندے کہتے ہیں کہ مجھے پتہ چلا کہ میری دادی جو 43 سال سے کھوئی ہوئی ہے وہ دموہ کے پاس ایک چھوٹا سا گاؤں کوٹا تلا میں اسرار بھائی کے یہاں ہے، تو میں دادی کو لے جانے کےلئے ان سے ملاقات کرنے کے لئے ناگپور سے یہاں آگیا۔ ناگپور کے ڈپٹی سگنل وردھمان نگر میں میرا گھر ہے وہاں سے آیا ہوں۔ میں اکیلا ہی آرہا تھا، لیکن میری بیوی نے ساتھ چلنے کی ضد کی تو دونوں ہی دادی سے ملنے کے لئے یہاں فورا آگئے۔ یہاں میں نے دیکھا کہ اسرار خان کا گھر ہی نہیں بلکہ گاؤں کا ہر شخص دادی سے جڑا ہوا ہے۔ سبھی بہت جذباتی ہوگئے ہیں اور مجھے حیرت اس بات کی ہےکہ میری دادی جس گھر میں 43 سال سے رہ رہی ہے وہ ایک مسلم گھرانہ ہے اور میں ایک ہندو ہوں۔ یہ ایک ایسی مـثال ہے، جسے میں نے کبھی نہیں دیکھا ہے،جو لوگ ہندو اور مسلم کو لے  کر نفرت کی بات کرتے ہیں انہیں یہاں آکر دیکھنا چاہیئے  کہ انسانیت ابھی کیسے زندہ ہے۔
نور خان کے بیٹے اسرار خان کہتے ہیں کہ ہم تو جب سے پیدا ہوئے ہیں تب سے ابتک پنچو بائی کو گھر کے ایک فرد کی طرح پایا ہے ۔ ہم ہی نہیں بلکہ انہیں تو پورا گاؤں ہی مؤسی کے نام سے جانتا ہے۔آج مؤسی ہم سے دور جارہی ہے اس کی ہمیں تکلیف تو ہے لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ تینتالیس سال بعد مؤسی کو اس کے اپنے مل گئے ہیں ۔تینتالیس پہلے والد بزرگوار نور خان نے ان کی خدمت شروع کی تھی ۔ان کے دنیا سے گزرجانے کے بعد ہم نے اپنے بھائیوں کے ساتھ ان کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا اور ساتھ ہی ان کے اپنوں کی بھی تلاش جاری رکھی ۔آج مہم پوری ہوئی ۔جہاں مؤسی کے جانے کا دکھ ہے وہیں انکے اپنے مل گئے ہیں اس بات کی خوشی ہے ۔دموہ کے آدھار شلا سنستھان میں کام کرتا ہوںوہاں بھی لوگوں میں خوشی ہے ۔مجھے ہی نہیں میرا پورا گھر مؤسی کے جانے سے دکھی ہے۔گھر والوں کے ساتھ گاؤں والے بھی منع کر رہے ہیں لیکن عمر کے اس پڑاؤ میں جب ان کے گھر والوں کوپتہ چل گیا ہے تو وہ بھی چاہتے ہیں کہ ہم لوگ بھی دادی کی خدمت کرلیں۔آپ لوگ تو تینتالیس سال سے انکی خدمت کررہے ہیں۔
پنچو بائی شندے کے جانے کی خبر جب گاؤں میں پہنچی تو گاؤں کے سبھی لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔کسی نے مؤسی کو پھول پہنائےتو کسی نے مؤسی کے ہاتھ کا بوسہ لیا تو کسی نے جاتے جاتے ان سے سرپر ہاتھ رکھواکر دعائیںلیں۔ بچے بڑے بوڑھے مرد  وخواتین سبھی نے نم آنکھوں سے اپنی مؤسی کوروانہ کیا ۔اس منظر کو دیکھ کر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
صدر رنگ یہ فضا میرے ہندستاں کی ہے
خوشبواسی میں دیکھئے سارے جہاں کی ہے
First published: Jun 23, 2020 03:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading