ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: سری نگرکے بازارآج بھی رہے ویران،دکانیں رہی بند، دفعہ 144 کا نفاذ

سری نگرمیں صبح کےاوقات دکانیں کھلتی ہیں۔ لیکن آج یہاں صبح کےوقت بازارمیں سناٹا پسراہواتھا۔وہیں سڑکوں پرپرائیوٹ گاڑیوں کی آمدورفت میں بھی کمی دیکھی گئی۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: سری نگرکے بازارآج بھی رہے ویران،دکانیں رہی بند، دفعہ 144 کا نفاذ
علامتی تصویر

سری نگرمیں صبح کےاوقات دکانیں کھلتی ہیں۔ لیکن آج یہاں صبح کےوقت  بازارمیں سناٹا پسرا ہواتھا۔وہیں سڑکوں پرپرائیوٹ گاڑیوں کی آمدورفت میں بھی کمی دیکھی گئی۔ حالانکہ سرینگرکےتقریباً ہرجگہ سےبندشیں ہٹالی گئی ہیں۔ تاہم دفعہ 144 اب بھی نافذ ہے۔سری نگر کے کئی  علاقوں میں پولیس اورفررسزکی تعیناتی بدستورجاری  ہے۔ کولگام میں 5 بیرون ریاست سے آئے مزدوروں کی ہلاکت کو دیکھتے ہوئے حفاظت کے مزید انتظامات کئے گئے ہیں۔


سری نگر میں فوجی اہلکار خاردار تاروں سے سڑک بند کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔(تصویر:اے پی فوٹو)۔
سری نگر میں فوجی اہلکار خاردار تاروں سے سڑک بند کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔(تصویر:اے پی فوٹو)۔


جموں کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کے بعد سے کشمیر میں زندگی کا ہرشعبہ متاثرہواہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق وادی میں بدھ کو بھی لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر کوئی پابندی عائد نہیں رہیں۔ تاہم وادی بھر میں ہر طرح کی انٹرنیٹ خدمات بدھ کوبھی معطل رہیں۔ اس کے علاوہ پری پیڈ موبائل فون خدمات کو بھی بند رکھا گیا ہے۔


علامتی تصویر
علامتی تصویر


یادرہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے5 اگست کو جموں کشمیرکے خصوصی درجہ کو ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف وادی میں غیراعلانیہ ہڑتال جیسے حالات کا سلسلہ شروع ہوا تھا،جواب بھی جاری ہے۔سری نگر کے تمام علاقوں بشمول تجارتی مرکز لال چوک میں  بدھ کے روز بھی دن بھردکانیں بندرہیں اور تجارتی سرگرمیاں متاثررہیں تاہم سڑکوں پراکا دکا نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظرآئیں۔عینی شاہدین کے مطابق  بدھ کو چھاپڑی فروش بھی سڑکوں سے غائب نظر آئے
علامتی تصویر
وہیں دوسری جانب انتظامیہ نے محبوس سیاسی لیڈروں کی مشروط رہائی کا سلسلہ شروع کیا ہے تاہم نیشنل کانفرنس کے صدر اور تین بار جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے اور دو بار رکن پارلیمان رہنے والے ڈاکٹر فاروق عبداللہ پی ایس اے کے تحت اپنی رہائش گاہ پر نظر بند ہیں جبکہ اُن کے فرزند اور سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ ہری نواس میں بند ہیں اور پی ڈی پی صدراورسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی ابھی نظر بند ہی ہیں۔
فائل فوٹو
First published: Oct 30, 2019 05:28 PM IST