ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

North East Delhi Riots Case:مزید3 نوجوانوں کی دہلی ہائی کورٹ سےضمانت پررہائی

اب تک نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے کل66افرادکی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں، ضمانت منظور ہونے کے بعد تینوں ملزمین کی جیل سے رہائی عمل میں آچکی ہے، ضمانت پر رہا شدہ ملزمین میں سے ایک ملزم سابق عام آدمی پارٹی کے کارپوریٹر طاہر حسین کا سگا بھائی بھی ہے جس پر استغاثہ نے دہلی فساد بھڑکانے میں اہم کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

  • Share this:
North East Delhi Riots Case:مزید3 نوجوانوں کی دہلی ہائی کورٹ سےضمانت پررہائی
مولاناارشد مدنی نے کہا کہ ملک کے اتحاد اور سالمیت اوراس کی گنگا جمنی تہذیب کے لیے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ وہ مملکتیں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں جو اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتیں۔

جمعیت علماء ہند کی کوششوں سے دہلی فساد میں مبینہ طور پرماخوذ مسلم ملزمان کی ضمانت پر رہائی کا سلسلہ جاری ہے،آج مزید3 افرادکی ضمانت کی عرضیاں منظور ہوگئیں جو پچھلے ایک سال سے جیل میں تھے۔،قابل ذکر ہے کہ اب تک نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے کل66افرادکی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں، ضمانت منظور ہونے کے بعد تینوں ملزمین کی جیل سے رہائی عمل میں آچکی ہے، ضمانت پر رہا شدہ ملزمین میں سے ایک ملزم سابق عام آدمی پارٹی کے کارپوریٹر طاہر حسین کا سگا بھائی بھی ہے جس پر استغاثہ نے دہلی فساد بھڑکانے میں اہم کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے گذشتہ روز دہلی فساد کے معاملے میں گرفتارتین ملزمین لیاقت علی، ریاست علی اور شاہ عالم کو مشروط ضمانت پرر ہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ملزم شاہ عالم طاہر حسین کا بھائی ہے۔ان ملزمین کو ایف آئی آر نمبر 101/2020 پولس اسٹیشن کھجوری خاص مقدمہ میں ضمانت پر رہائی ملی ہے۔


دہلی فسادات میں گھر اور دوکان کے علاوہ بہت سی عبادت گاہیں بھی جل کر خاکستر ہوگئی تھیں۔ فائل فوٹو
دہلی فسادات میں گھر اور دوکان کے علاوہ بہت سی عبادت گاہیں بھی جل کر خاکستر ہوگئی تھیں۔ فائل فوٹو


جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ملزمین کی پیروی ایڈوکیٹ ظہیر الدین بابر چوہان او ر ان کے معاونین وکلاء ایڈوکیٹ دنیش و دیگرنے کی، ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 147,148,149,436, 427 (فسادات برپا کرنا،گھروں کو نقصان پہنچانا،غیر قانونی طور پر اکھٹا ہونا)اور پی ڈی پی پی ایکٹ کی دفعہ 3,4 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔سماعت کے بعددہلی ہائی کورٹ کی جسٹس مکتا گپتا نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ واقعہ 25 فروری 2020 کو ہوا تھا جبکہ ایف آئی آر 5 مارچ 2020 کو درج کرائی گئی جس سے اسکی حقیقت پر شکوک پیدا ہوتے ہیں اسی طرح گواہان نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ملزمین کو 24 فروری کو طاہر حسین کے گھر کے پاس دیکھا تھا جبکہ واقعہ 25 فروری کا ہے لہذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ملزمین نے ہی پتھراؤ کیا تھا اور فساد برپا کرنے کی کوشش کی تھی۔ جسٹس مکتا گپتا نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ ملزمین کو پہلے ہی دوسرے مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے لہذا انہیں مزید جیل میں رکھنا ٹھیک نہیں ہوگا ا انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ ملزمین کے خلاف سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ملے اور ان کے خلاف گواہی دینے والے سرکاری گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے جس سے اس ان کا بیان مشکو ک لگتاہے۔


صدر جمعیۃ علما ہند مولانا سید ارشد مدنی نے دہلی فساد میں مبینہ طور پر ماخوذ ملزمین کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ محض ضمانت پر رہائی جمعیۃ علما ہند کا مقصود نہیں ہے۔
صدر جمعیۃ علما ہند مولانا سید ارشد مدنی نے دہلی فساد میں مبینہ طور پر ماخوذ ملزمین کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ محض ضمانت پر رہائی جمعیۃ علما ہند کا مقصود نہیں ہے۔


عدالت نے ملزمین کو حکم دیا کہ وہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ان کے خلاف موجودثبوت وشواہد سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے اور پولس اسٹیشن اور عدالت میں ضرورت پڑھنے پر حاضر رہیں گے، عدالت نے ملزمین کو موبائل میں آروگیہ سیتو اپلیکشن بھی ڈاؤنلوڈ کرنے کا حکم دیا۔جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء کا پینل کل 139 مقدمے دیکھ رہا ہے،امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی دوسرے معاملوں میں بھی پیش رفت ہوگی اور غلط طریقے سے فساد میں ماخوذ کئے گئے باقی ماندہ افراد کی رہائی کا راستہ صاف ہو جائے گا۔صدر جمعیۃ علما ہند مولانا سید ارشد مدنی نے دہلی فساد میں مبینہ طور پر ماخوذ ملزمین کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ محض ضمانت پر رہائی جمعیۃ علما ہند کا مقصود نہیں ہے۔بلکہ اس کی کوشش ہے کہ جن بے گناہ لوگوں کو فساد میں جبراً پھنسایا گیا ہے ان کو قانونی طور پر انصاف دلایا جائے۔ اور فساد کے اصل مجرموں اور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علما ہند کے وکلا کی ٹیم اسی نکتہ پر کام کر رہی ہے۔ اور مکمل انصاف دلانے تک ہماری یہ قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔مولانا مدنی نے کہا کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور کمیشنوں کی رپورٹوں نے دہلی فساد کی اصل کہانی کا پردہ چاک کردیا ہے کہ دہلی فساد منصوبہ بند تھا اور اس کے پیچھے فرقہ پرست طاقتیں کام کر رہی تھیں۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ بے گناہوں کو گرفتار کر کے تفتیش کی فائل کو تقریباً بند کردیا گیا، جو لوگ اس فساد میں مسلسل سامنے آتے رہے وہ اب بھی آزاد ہیں اور اسی طرح زہر افشانی بھی کر رہے ہیں، مگر ان کو بے نقاب کرنے اور قانون کے کٹہر ے میں لانے کی ضرورت ہی نہیں محسوس کی جارہی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کے اتحاد اور سالمیت اوراس کی گنگا جمنی تہذیب کے لیے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ وہ مملکتیں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں جو اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتیں۔ یہ ایک بڑی سچائی ہے اور دنیا کی تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ملک و قوم کی ترقی کا راز اتحاد ہی میں پوشیدہ ہے، انتشار اور تفریق میں نہیں، اپنے ہی لوگوں کے لیے مذہب اور فرقے کی بنیاد پر امتیاز اور ناانصافی کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ایک بدنما داغ ہیں۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جس منظم اندازمیں فساد برپا کیے جاتے ہیں ٹھیک اسی منظم اندازمیں پہلے ہی سے مجرموں کو بچانے کی بھی تیاری کر لی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے گناہوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے اور اصل گنہگار آزاد رہتے ہیں۔

مولانا مدنی نے آخر میں کہا کہ بلا شبہ ملک کے حالات مایوس کن اور خطرناک ہیں،لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ امید افزابات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں، زندہ قومیں حالات کے رحم و کرم پر نہیں رہتی ہیں،بلکہ اپنے کردار و عمل سے حالات کا رخ پھیر دیتی ہیں۔ یہ ہمارے امتحان کی سخت گھڑی ہے۔ چنانچہ ہمیں کسی بھی موقع پرصبر و یقین، امید و استقلال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑناچاہیے۔ کیونکہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ہے۔اخیر میں مولانا مدنی نے کہا کہ ملزمین کو صرف ضمانت نہیں ملی ہے بلکہ ان کی جیل سے رہائی بھی ہوچکی ہے، اب وہ رمضان المبارک کے ایام اپنے گھر پر اہل خانہ کے ساتھ گذار سکیں گے۔ ہماری کوشش ہیکہ جلد از جلد تمام محروسین کی جیل سے رہائی ہوسکے تاکہ وہ اس نازک وقت میں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گذار سکیں۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Apr 22, 2021 09:22 PM IST