உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    "راہل گاندھی کی وزیر اعظم مودی سے اپیل ، " 500 کروڑ کافی نہیں ، کیرالہ سیلاب کو قومی آفت قرار دیں

     donation.cmdrf.kerala.gov.in کیرالہ حکومت نے سیلاب متاثروں کی مدد کے لئے لوگوں سے ڈونیشن دینے کی اپیل کی ہے۔ آپ  
کے ذریعے سیلاب متاثرین کی مدد کر سکتے ہیں۔

    donation.cmdrf.kerala.gov.in کیرالہ حکومت نے سیلاب متاثروں کی مدد کے لئے لوگوں سے ڈونیشن دینے کی اپیل کی ہے۔ آپ کے ذریعے سیلاب متاثرین کی مدد کر سکتے ہیں۔

    donation.cmdrf.kerala.gov.in کیرالہ حکومت نے سیلاب متاثروں کی مدد کے لئے لوگوں سے ڈونیشن دینے کی اپیل کی ہے۔ آپ کے ذریعے سیلاب متاثرین کی مدد کر سکتے ہیں۔

    • Share this:
      کانگریس صدر راہل گاندھی نے کیرالہ میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے ریاست کے سیلاب کوقومی آفت قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔  راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز ٹویٹ کرکے کہا کہ "ڈیئر وزیر اعظم، براہ مہربانی بلا تاخیر کئےکیرالہ کےسیلاب کو قومی آفت قرار دیں۔ ہمارے کروڑوں لوگوں کی زندگی، روزی روٹی اور مستقبل داؤ پر ہے"۔  اس سے پہلےراہل گاندھی نے ایک ٹویٹ کر کے مودی سے سیلاب سے متاثرہ کیرالہ کو خصوصی مدد دینے کی درخواست کی تھی۔

      کانگریس صدر نے کہا کہ "کیرل بہت بڑی مصیبت میں ہے۔ میں نے وزیر اعظم سے بات کی ہے اور ان سے فوج اور بحریہ کے جوانوں کی تعیناتی میں اضافہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ یہ بحران صورت حال ہے۔ ریاست کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ خوفناک سیلاب ہے، اس لئے ریاست کو خصوصی مدد ملنی چاہئے" ۔

      کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا ہے کہ کیرالہ میں سیلاب سے مچی تباہی کیلئے 500 کروڑ کافی نہیں ہیں۔

      دریں اثناء، وزیر اعظم مودی نے سیلاب کی تباہی سے دوچار ریاست کیرالہ کو 500 کروڑ روپے کی عبوری راحت دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ریاست میں ہفتہ کو کیرالہ میں کچھ سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے سیلاب کی وجہ سے ہونے والی اموات اور وسیع پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے نقصان پر سخت افسوس ظاہر کیا۔ ریاست میں سیلاب کے حالات کا جائزہ لینے سے پہلے پی ایم مودی نے ایک جائزہ میٹنگ کی۔



      راحت کیمپوں میں رہ رہے لوگوں کو کھانا اور ہر ممکنہ مدد مہیہ کرا رہے ہیں سی آر پی ایف کے جوان۔

      (نیوز ایجنسی یو این آئی کے انپٹ کے ساتھ)

      First published: