உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Punjab Police: بی جے پی اور AAP کے درمیان لفظی جنگ، تاجندر بگا کیوں بنے توجہ کا مرکز؟

    یہ مقدمہ موہالی کے رہنے والے AAP لیڈر سنی اہلوالیا کی شکایت پر درج کیا گیا

    یہ مقدمہ موہالی کے رہنے والے AAP لیڈر سنی اہلوالیا کی شکایت پر درج کیا گیا

    عام آدمی پارٹی (AAP) کے رہنماؤں نے گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب پولیس غیرجانبداری سے کام کر رہی ہے اور یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب بگا نے پانچ بار نوٹس بھیجے جانے کے بعد بھی تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔

    • Share this:
      پنجاب پولیس (Punjab Police) کے ذریعہ جمعہ کی صبح بی جے پی لیڈر تاجندر بگا کی دہلی میں واقع رہائش گاہ سے گرفتاری ہوئی ہے۔ جس سے تین ریاستوں کے پولیس دستوں کے گرد گھومنے والی رسہ کشی اور زعفرانی پارٹی و عام آدمی پارٹی کے درمیان لفظی جنگ کی شکل اختیار کر گئی ہے، جو حکومت کر رہی ہے۔

      ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ دہلی بی جے پی (Delhi BJP) کے ترجمان کو گزشتہ ماہ موہالی میں ان کے خلاف درج ایک کیس کے سلسلے میں ان کے گھر سے لے جایا جا رہا ہے۔ بی جے پی کے نوین کمار جندال کے مطابق 50 پولیس والے صبح 8.30 بجے کے قریب بگا کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں گرفتار کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنی پگڑی تک نہیں پہن سکتا تھا۔

      بگا کے والد نے بھی دعویٰ کیا کہ جب اس نے اس واقعے کو ویڈیو میں قید کرنے کی کوشش کی تو اس کے چہرے پر مکے مارے گئے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج صبح 10 تا 15 پولیس اہلکار ہمارے گھر آئے اور تاجندر کو گھسیٹ کر باہر لے گئے۔ جب میں نے اس واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کرنے کے لیے اپنا موبائل فون اٹھایا تو پولیس مجھے دوسرے کمرے میں لے گئی اور میرے چہرے پر گھونسے مارے۔

      پچھلے مہینے پنجاب پولیس نے بگا کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے، دشمنی کو فروغ دینے اور مجرمانہ دھمکی دینے کے الزامات عائد کیے تھے۔ یہ مقدمہ موہالی کے رہنے والے AAP لیڈر سنی اہلوالیا کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔ یکم اپریل کو درج کی گئی ایف آئی آر میں بگا کے 30 مارچ کے تبصرے کا حوالہ دیا گیا تھا، جب وہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی رہائش گاہ کے باہر فلم ’دی کشمیر فائلز‘ (The Kashmir Files) پر بی جے پی یوتھ ونگ کے احتجاج کا حصہ تھے۔

      جمعہ کے روز جیسے ہی حالات آپ اور بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ میں بدل گئے، دہلی پولیس نے بگا کے والد کی شکایت کی بنیاد پر اغوا کا مقدمہ درج کیا کہ کچھ لوگ صبح 8 بجے کے قریب دہلی کے جنک پوری میں واقع ان کے گھر آئے۔

      مزید پڑھیں: وسنت پنچمی تک تیار ہوجائے گاPlay School کے نصاب کا فریم ورک، حتمی شکل دینے کے لئے وزارت تعلیم نے بنائی گائیڈلائن

      کہانی میں ایک موڑ اس وقت آیا جب بگا کو موہالی لے جانے والی پنجاب پولیس کی ٹیم کو راستے میں ہریانہ پولیس نے روکا۔ ہریانہ پولیس نے پنجاب پولیس کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا اور انہیں شاہراہ سے کوروکشیتر کے ایک تھانے میں لے گئے۔ دہلی پولیس کی ایک ٹیم بھی وہاں پہنچ گئی ہے۔

      مزید پڑھیں: امتحانی تناؤ کو کم کرنے Instagram نےاٹھایا قدم، ’مابعد کووڈ۔19طلبا کی ہوگی بہتر رہنمائی‘

      پنجاب پولیس نے ہریانہ کے اعلیٰ پولیس افسر کو ایک خط بھیجا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اغوا کا معاملہ نہیں ہے اور ہریانہ پولیس انہیں بلاوجہ روک رہی ہے۔ دہلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہیں گرفتاری سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ تاہم پنجاب پولیس نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیشگی اطلاع دی گئی تھی اور ان کی ایک ٹیم جمعرات کی شام سے جنک پوری پولیس اسٹیشن میں موجود ہے۔

      عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں نے گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب پولیس غیرجانبداری سے کام کر رہی ہے اور یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب بگا نے پانچ بار نوٹس بھیجے جانے کے بعد بھی تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: