உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Reality Check:سردی میں کپکپاتے ہوئے اسکول جانے کو مجبور بچے، 1.20 لاکھ اسکولی طلبہ کو ابھی یونیفارم اور سوئیٹر کا انتظار

    کلاس روم میں موجود زیادہ تر بچے بنا سوئٹر، جوتا اور موزے کے نظر آئے۔

    کلاس روم میں موجود زیادہ تر بچے بنا سوئٹر، جوتا اور موزے کے نظر آئے۔

    حکومت کی جانب سے بھیجی جانے والی 1100 روپے کی رقم کا ریالیٹی چیک کیا ہے۔ ضلع میں 1.20 لاکھ بچوں کو ابھی بھی یونیفارم اور سوئیٹر (School Uniform) کا انتظار ہے۔ ایسے بچوں کے گارجین کے بینک اکاونٹ میں ابھی تک ڈی بی ٹی (DBT) کی رقم نہیں پہنچی ہے۔

    • Share this:
      فتح پور: اُترپردیش کے فتح پور ضلع (Fatehpur News) میں نیوز18 کی ٹیم نے کونسل اسکولس میں پڑھنے والے بچوں کے سرپرستوں کے بینک اکاونٹ میں حکومت کی جانب سے بھیجی جانے والی 1100 روپے کی رقم کا ریالیٹی چیک کیا ہے۔ ضلع میں 1.20 لاکھ بچوں کو ابھی بھی یونیفارم اور سوئیٹر (School Uniform) کا انتظار ہے۔ ایسے بچوں کے گارجین کے بینک اکاونٹ میں ابھی تک ڈی بی ٹی (DBT) کی رقم نہیں پہنچی ہے۔ ایسے میں زیادہ تر بچے بنا سوئیٹر کے ہی سردی میں کپکپاتے ہوئے اسکول جانے کو مجبور ہیں۔ وہیں کلاس روم میں موجود زیادہ تر بچے بنا سوئٹر، جوتا اور موزے کے نظر آئے۔ کچھ بچے سوئیٹر، جیکٹ پہنے ہوئے تھے، جو خود کے پیسوں سے خریدے ہوئے تھے۔ جن بچوں کے گارجین کے بینک اکاونٹ میں پیسہ پہنچ بھی گیا ہے، وہ ابھی تک اپنے بچوں کو یانیفارم، جوتا، موزے، سوئیٹر نہیں خریدسکے ہیں۔

      بتادیں کہ فتح پور ضلع میں 480 کمپوزٹ اسکولس، 266 ہائی اسکول اور 1384 پرائمری اسکولس ہیں۔ مجموعی طور پر 2130 اسکولوں میں دو لاکھ 66 ہزار بچے پڑھ رہے ہیں۔ پچھلے سال تک بچوں کو جولائی مہینے میں دو سیٹ یونیفارم اور اکتوبر تک ایک سوئیٹر اسکول کی طرف سے دیا جاتا رہا تھا۔ اس بار محکمے نے اس میں تبدیلی کرتے ہوئے سیدھے پیرنٹس کے کھاتے میں ہر بچہ 1100 روپے کی رقم بھیجنے کی سہولت لاگو کردی ہے۔ اس رقم سے پیرنٹس بچے کے لئے دو سیٹ یونیفارم، ایک سوئیٹر، جوتا، موزے اور اسکول بیگ خریدنا ہے۔ پہلے مرحلے میں 93000 بچوں کے پیرنٹس کے بینک کھاتوں میں ڈی بی ڈی رقم بھیجی گئی تھی۔ دوسرے فیز میں 48000 ہزار پیرینٹس کے کھاتے میں رقم پہنچی ہے۔ ابھی تک 1.20 لاکھ بچوں کے سرپرستوں کے اکاونٹ میں یہ رقم نہیں پہنچی ہے۔

      اسکول کی پرنسپل چترانگ سنگھ نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے گارجین کے کھاتوں میں ڈائریکٹ پیسہ پہنچ رہا ہے، جس سے وہ اپنے من مطابق خریداری کرپائیں گے۔ ہمارے اسکولس میں قریب 50 فیصدی بچوں کے گارجین کے بینک کھاتوں میں پیسہ پہنچ گیا ہے۔ کچھ بچوں کے گارجین کے بینک کھاتوں میں پیسہ اس لئے نہیں پہنچا ہے کیونکہ ابھی کچھ نئے بچوں نے ایڈمیشن لیا ہے، اور کچھ بچے ایسے بھی ہیں جن کے سرپرستوں کا اکاونٹ آدھار کارڈ سے لنک نہیں ہے۔ جلد ہی سبھی بچوں کے گارجینوں کے اکاونٹ میں پیسہ پہنچ جائے گا۔

      آپ کو بتادیں کہ پچھلے مہینے یوگی سرکار نے ریاست کے قریب پونے دو کروڑ بچوں کے سرپرستوں کے کھاتوں میں 1100-1100 روپے رقم بھیجی تھی۔ ان روپیوں سے بچوں کو دو جوڑی یونیفارم خریدنی تھی۔ ایک بچے پر فی جوڑی 300 روپے کی قیمت سے 600 روپے، ایک سوئیٹر کے لئے 200 روپے، ایک جوڑا جوتا و دو جوڑے ساکس کے لئے 125 روپے اور ایک اسکول بیگ کے لئے 175 روپے دئیے گئے ہیں۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: