உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دس فیصد ای ڈبلیو ایس کوٹہ دوسروں کو متاثر نہیں کرے گا، سپریم کورٹ کی وضاحت

    ’’یہ بھی مثبت کارروائی کا ایک اہم جزو ہے۔"

    ’’یہ بھی مثبت کارروائی کا ایک اہم جزو ہے۔"

    Reservation for economically weaker sections: چیف جسٹس آف انڈیا ادے امیش للت کی سربراہی والی بنچ نے مرکز سے کہا کہ وہ اسکالرشپ کے ذریعہ اقتصادی امداد کی دیگر اقسام کے بارے میں تفصیلات فراہم کرے جس کا مقصد معاشرے کے تمام طبقات کو فائدہ پہچانا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      Reservation for economically weaker sections: مرکزی حکومت نے سپریم کو بتایا کہ مرکزی تعلیمی اداروں میں معاشی طور پر کمزور طبقات (EWS) کے لیے 10 فیصد ریزرویشن سے دیگر ریزرو یا کھلے زمروں کے طلبہ پر اثر انداز نہیں ہوگا کیونکہ 4,315 کروڑ روپے کے مختص بجٹ میں اضافی دو لاکھ نئی نشستیں تخلیق کی جائے گی۔ پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے سامنے دو صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ حکومت ایک خودمختار ادارہ ہونے کے ناطے عوام کی ضروریات کی تکمیل کررہی ہے۔ 103 ویں آئینی ترمیمی ایکٹ 2019 کے تحت یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا کہ ریزرو اور اوپن کیٹیگری کی سیٹوں کو کم نہ جائے اور ای ڈبلیو ایس کوٹہ کو بھی مکمل طور پر آسان بنانے کے لیے کوشش کی جائے۔

      وزارت قانون اور انصاف کےڈپٹی سکریٹری این ایس وینکٹیشورن کے ذریعہ داخل کردہ حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں کیے گئے حسابات کے مطابق معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے 10 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے ایس ٹی ایس سی اور او بی سی زمروں کے تحفظات اور عام زمرے کے لیے سیٹ کی دستیابی کو مطلق تعداد میں کم کیے بغیر یہ کام مکمل کیا جائے۔ سال 19-2018 میں کیے گئے داخلوں کے لیے انٹیک میں کل اضافہ تقریباً 25 فیصد بڑھانے کی بات کہی گئی تھی۔

      103ویں آئینی ترمیمی ایکٹ:

      حلف نامہ میں مزید کہا گیا کہ مرکزی تعلیمی اداروں میں کل 214,766 اضافی نشستیں تخلیق کی جانی ہیں اور اس کے لیے 4,315.15 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ 103ویں آئینی ترمیمی ایکٹ کے ذریعے آئین میں دفعہ 15(6) اور 16(6) متعارف کرائے گئے، جو معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے، درج فہرست ذاتوں یا قبائل کے علاوہ دیگر افراد اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے ہے۔ جن کی سالانہ خاندانی آمدنی 8 لاکھ روپے سے کم ہو۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Exclusive : پی ایف آئی پر بہت جلد پابندی لگانے والی ہے سرکار، سبھی تیاری پوری : ذرائع
       بنچ میں جسٹس دنیش مہیشوری، ایس رویندر بھٹ، بیلا ایم ترویدی اور جے بی پاردی والا بھی شامل ہیں، بنچ نے کہا کہ ہم میڈیکل، انجینئرنگ اور پیشہ ورانہ کورسز کے لیے مرکزی تعلیمی اداروں میں دستیاب اسکالرشپس کی تعداد کا ڈیٹا چاہتے ہیں۔ یہ بھی مثبت کارروائی کا ایک اہم جزو ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      راجستھان بحران میں گہلوت کا ہاتھ نہیں، کانگریس آبزرورس نے دی کلین چٹ، کیا اب بھی بن سکتے ہیں صدر؟



      چیف جسٹس آف انڈیا ادے امیش للت کی سربراہی والی بنچ نے مرکز سے کہا کہ وہ اسکالرشپ کے ذریعہ اقتصادی امداد کی دیگر اقسام کے بارے میں تفصیلات فراہم کرے جس کا مقصد معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر کمزور طبقات کو فائدہ پہنچانا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: