உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لکھنو : 1000 سالہ قدیم مندر میں افطار پارٹی ، 500 مسلمانوں کی شرکت ، آرتی استھل کے نزدیک ہوئی نماز

    بھگوان شیوا کے قدیم منکامیشور مندر نے اتحاد اور بھائی چارہ کی ایک انوکھی مثال قائم کی ۔

    بھگوان شیوا کے قدیم منکامیشور مندر نے اتحاد اور بھائی چارہ کی ایک انوکھی مثال قائم کی ۔

    بھگوان شیوا کے قدیم منکامیشور مندر نے اتحاد اور بھائی چارہ کی ایک انوکھی مثال قائم کی ۔

    • Share this:
      لکھنو : بھگوان شیوا کے قدیم منکامیشور مندر نے اتحاد اور بھائی چارہ کی ایک انوکھی مثال قائم کی ۔ اتوار کو مندر میں ایک افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا ، جس میں شیعہ اور سنی برادری کی معروف شخصیات سمیت 500 مسلمانوں نے شرکت کی ۔ افطار پارٹی کی خاص بات یہ رہی کہ مسلمانوں نے آرتی استھل کے نزدیک نماز بھی ادا کی۔
      نیوز 18 سے بات چیت کرتے ہوئے مہنت دیویا گری نے بتایا کہ سبھی مذاہب محبت اور بھائی چارہ کو فروغ دیتے ہیں ۔ کبھی بھی مسلمان بھی کنیا پوجن کرتے ہیں یہاں بڑا منگل اسٹال لگاتے ہیں۔ مذہبی قائدین جیسے ائمہ اور مہنتوں کو اپنا کام کرنا چاہئے اور ہم آہنگی اور بھائی چارہ کو پھیلانا چاہئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے تین باورچیوں نے صبح سے ہی اپنی نوعیت کی پہلی افطار پارٹی کی تیاریاں شروع کردی تھیں ۔ مجمع ایک تاریخی تھا ۔
      افطار پارٹی میں شریک ٹیلہ والی مسجد کے مولانا فضل منان نے بتایا کہ مہنت دیویاگری نے انہیں افطار کیلئے مدعو کیا تھا ۔ انہوںنے مزید کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ایسی افطار پارٹی کا حصہ بنیں ۔ اس قدم کی سراہنا کی جانی چاہئے ۔ آج کے وقت میں ایسے اقدام سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔
      First published: