உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    15 اگست سے پہلے لال قلعہ کے سامنے کھڑے کئے گئے بڑے بڑے کنٹینرس ، جانئے کیا ہے معاملہ

    15 اگست سے پہلے لال قلعہ کے سامنے کھڑے کئے گئے بڑے بڑے کنٹینرس ، جانئے کیا ہے معاملہ

    15 اگست سے پہلے لال قلعہ کے سامنے کھڑے کئے گئے بڑے بڑے کنٹینرس ، جانئے کیا ہے معاملہ

    پچھلے تین دنوں سے لگائے جارہے کنٹینر کے معاملہ میں دہلی پولیس ذرائع نے بتایا کہ 15 اگست کے پیش نظر سیکورٹی انتظامات کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ انتظام کیا جا رہا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : 15 اگست سے پہلے سیکورٹی کے پیش نظر دہلی پولیس نے پہلی مرتبہ لال قلعہ کے سامنے والے حصے پر بڑے بڑے کنٹینر کھڑے کئے ہیں۔ کنٹینر لگانے کے بعد سامنے سے لال قلعہ کا نظارہ نظر نہیں آئے گا ۔ اس کے علاوہ 15 اگست سے پہلے ان کنٹینرز پر سیکورٹی کے علاوہ پینٹنگ اور سیرین لگادی جائیں گی ۔ 15 اگست کو لے کر سیکورٹی ایجنسیاں پہلے ہی الرٹ جاری کر چکی ہیں ۔ اس الرٹ کے بعد سیکورٹی کے پیش نظر پہلی مرتبہ دہلی پولیس نے لال قلعہ کے سامنے والے حصے پر اتنے بڑے بڑے کنٹینر لگائے ہیں ۔

      پچھلے تین دنوں سے لگائے جارہے کنٹینر کے معاملہ میں دہلی پولیس ذرائع نے بتایا کہ 15 اگست کے پیش نظر سیکورٹی انتظامات کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ انتظام کیا جا رہا ہے ۔ قلعہ کے مرکزی دروازے پر رکاوٹ کے طور پر رکھے گئے ان کنٹینرز کے بارے بتایا گیا کہ یہ قدم ممکنہ خطرات کے کئی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے ۔

      پولیس ذرائع نے بتایا کہ لال قلعہ پر ڈرون رڈار سسٹم 10 اگست سے پہلے لگایا جائے گا ۔ اس سسٹم کا رڈار علاقہ کے ڈرونز کو تلاش کرکے جام کر دے گا ۔ ذرائع نے بتایا کہ اس کی رینج تقریبا پانچ کلومیٹر ہے ۔ یعنی اگر کسی نے لال قلعہ کے 5 کلومیٹر کے دائرے میں ڈرون اڑایا تو اینٹی ڈرون رڈار سسٹم اس کو غیر فعال بنا دے گا ۔

      ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اس مرتبہ یوم آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر اولمپک کھیلوں میں حصہ لینے والے سبھی ہندوستانی کھلاڑی لال قلعہ میں منعقد ہونے والے پروگام کے مہمان خصوصی ہوں گے ۔ وزیر اعظم مودی نے انہیں مدعو کیا ہے ۔ ان کی وجہ سے سیکورٹی اداروں نے ان کیلئے علاحدہ راہداری بنائی ہے ۔ ان کے بیٹھنے کا انتظام دیگر مہمانوں سے الگ ہوگا ۔

      خاص بات یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی ان کھلاڑیوں سے ذاتی طور پر یہاں ملیں گے اور بات چیت بھی کریں گے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: