உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    این آر آئی محمد عمر نے 21 مسلم لڑکیوں کا اجتماعی نکاح کرایا

    کانپور۔ انگلینڈ سے آئے این آر آئی نے 21 مسلم لڑکیوں کا اجتماعی نکاح  کرایا۔

    کانپور۔ انگلینڈ سے آئے این آر آئی نے 21 مسلم لڑکیوں کا اجتماعی نکاح کرایا۔

    کانپور۔ انگلینڈ سے آئے این آر آئی نے 21 مسلم لڑکیوں کا اجتماعی نکاح کرایا۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      کانپور۔ انگلینڈ سے آئے این آر آئی نے 21 مسلم لڑکیوں کا اجتماعی نکاح  کرایا۔ اس تقریب میں یوپی کے مختلف اضلاع سے آئے مسلم جوڑوں کا نکاح پڑھایا گیا  - این آر آئی محمد عمر نے اس  نیک کام  کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔


      محمد عمر کا انگلینڈ میں چمڑے کا کاروبار ہے۔ وہ سال میں صرف ایک بار ہی کانپور آتے ہیں،  جب غریب لڑکے لڑکیوں کا نکاح ہونا ہوتا ہے ۔ اس دوران ان کی طرف سے ہر نئے جوڑے کو جہیز کی مکمل اشیاء تحفہ کے طور پر دی جاتی ہیں- بابو پروا کے ریلوے میدان میں بڑی تعداد میں مسلم جوڑے اور ان کے خاندان کےدوست اور قریبی رشتہ دار اکٹھا ہوئے اور پورے رسم و رواج کے ساتھ نکاح پڑھائے گئے۔ مسلم نکاح کمیٹی کی طرف سے اس پروگرام کی نگرانی کی جاتی ہے۔


      کمیٹی کے مطابق نکاح سے پہلے یہاں پر سب سے  پہلے جوڑے آکر رجسٹریشن کراتے ہیں۔ ان سے پندرہ سو روپے جمع کرائے جاتے ہیں - اسکے بعد کمیٹی کے لوگ جوڑوں کے دونوں خاندانوں کے بارے میں تحقیقات کرتے ہیں۔ رشتہ ہونے کے بعد انکو نکاح کی تقریب میں شامل کیا جاتا ہے۔ نکاح کے بعد انکے رجسٹریشن کے روپے واپس لوٹا دئے جاتے ہیں۔ اس پروگرام کے لئے کسی سے بھی چندہ نہیں وصول کیا جاتا ہے۔اسکے لئے کمیٹی کے لوگ خود ہی خرچ کرتے ہیں۔ تحفہ کے طور پرہر نئے جوڑے کو  تقریباً ستر ہزار روپے کا جہیزکا سامان دیا جاتا ہے۔


      محمد عمر نے بتایا کہ سال دو ہزار پانچ میں جب یہ اجتماعی نکاح کا پروگرام شروع کیا گیا تھا اسکے بعد صرف پانچ جوڑوں کا نکاح کرایا گیا تھا ۔ لیکن آہستہ آہستہ اب جوڑوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد یہ ہے  کہ معاشرے میں کئی ایسے غریب خاندان ہیں جو اپنی بچیوں کی شادی نہیں کرا پاتے ہیں۔ ایسے خاندان کی ہم مدد کرتے ہیں . انہوں نے کہا کہ اوپر والے نے ہمیں اس قابل بنایا ہے تو کیوں نہ ہم معاشرے کے لئے کچھ اچھے کام کریں اور بیٹیوں کی شادی کرانا ویسے بھی بڑا ثواب کا کام ہے۔


       عمر نے یہ بھی بتایا کہ انکا بچپن زیادہ تر کانپور کی گلیوں میں ہی گزرا ہے جہاں انہوں نے غربت کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے - لیکن اوپر والے کے فضل و کرم سے آج جب انکا کاروبار اچھا چل رہا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میرا بھی فرض بنتا ہے کہ میں کچھ ایسا کروں جس سے کہ لوگوں کے دکھ درد دور ہوں۔


      ازدواجی بندھن میں بندھنے جا رہی سلمہ نے کہا کہ اسکے خاندان کے پاس اتنے روپے نہیں تھے کہ اسکی شادی دھھوم دھام سے ہو سکے۔ لوگ جہیز مانگتے تھے لیکن اس کے والد کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ جہیز کے مطالبات پورے کر سکیں۔ سلمہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ جس طرح سے آج اسکا نکاح ہوا ہے اور اسے جہیز ملا ہے اسکے لئے وہ اور اسکا خاندان نکاح کمیٹی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

      First published: