ہوم » نیوز » No Category

ملک کو آج مولانا محمد علی جوہر کے جذبۂ حریت کی ضرورت : مقررین

نئی دہلی: مولانا محمد علی جوہر نے تحریک آزادی کے دوران جس جذبۂ حریت کا مظاہرہ کیا تھا آج ملک کو ایک بار پھر اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ ان کی والدہ بی اماں نے اپنے بیٹوں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کے اندر آزادی کی جو روح پھونکی تھی آج وہ روح کہیں کھو گئی ہے۔

  • News18
  • Last Updated: Dec 11, 2015 04:13 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ملک کو آج مولانا محمد علی جوہر کے جذبۂ حریت کی ضرورت : مقررین
نئی دہلی: مولانا محمد علی جوہر نے تحریک آزادی کے دوران جس جذبۂ حریت کا مظاہرہ کیا تھا آج ملک کو ایک بار پھر اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ ان کی والدہ بی اماں نے اپنے بیٹوں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کے اندر آزادی کی جو روح پھونکی تھی آج وہ روح کہیں کھو گئی ہے۔

نئی دہلی: مولانا محمد علی جوہر نے تحریک آزادی کے دوران جس جذبۂ حریت کا مظاہرہ کیا تھا آج ملک کو ایک بار پھر اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ ان کی والدہ بی اماں نے اپنے بیٹوں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کے اندر آزادی کی جو روح پھونکی تھی آج وہ روح کہیں کھو گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آج نے صرف یہ کہ ان مجاہدین آزادی کو یاد کریں بلکہ ان کے نقش قدم پر چل کر ملک کو ایک نئی روشنی کی طرف لے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی کے 27 ویں سالانہ جلسہ تقسیم ایوارڈ کے دوران مقررین نے کیا۔


جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب کی صدارت جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کی۔ انھوں نے اپنی صدارتی تقریر میں مولانا محمد علی جوہر کی قربانیوں کو یاد کیا اور کہا کہ چونکہ مولانا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے ایک ہیں اس لیے ان کے نام پراور ان کی یاد میں ہونے والے پروگرام کا جامعہ میں منعقد ہونا ایک خوش آئند قدم ہے۔


اکیڈمی کے صدر پروفیسر خواجہ ایم شاہد نے مولانا جوہر کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ آزادی کی ایک قد آور شخصیت تھی۔ ان کی والدہ بی اماں نے جس طرح مولانا محمد علی جوہر کے والد کے انتقال کے بعد اپنے بیٹوں کو اعلی تعلیم دلوائی اور ان کے اندر جوش آزادی پیدا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انھوں نے مولانا جوہر کو انگریزی تعلیم دلوا کر یہ یاد دلانے کی کوشش کی کہ اعلی تعلیم کے بغیر کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔


ہمالیہ ڈرگس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ایس فاروق نے برطانوی تسلط سے آزادی پر گفتگو کرتے ہوئے کہ مولانا محمد علی جوہر کی قربانیاں آزادی کے متوالوں کے اندر نیا جوش پیدا کرتی تھیں۔ ہمارے بزرگوں نے ملک کے لیے جب قربانی پیش کی تو انھوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ملک دو ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ انھوں نے بھی مولانا جوہر کی والدہ بی اماں کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے بچوں کی جس طرح تربیت کی وہ ہر ماں کے لیے ایک مثال ہے۔


دوارکا حلقے سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی آدرش شاستری نے کہا کہ آج وقت بہت نازک آگیا ہے۔ ملک کو آزاد ہوئے تقریباً 70 سال ہو رہے ہیں لیکن آج ملک کا جو ماحو ل ہے وہ باعث تشویش ہے۔ آج ایسا لگتا ہے کہ مجاہدین آزادی نے جو خواب دیکھا تھا ملک اس سے کہیں بھٹک گیا ہے۔ بقول ان کے آج ملک میں عدم رواداری کا ماحول ہے اور آج نوجوانوں کو خاص طور پر سامنے آنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ملک کو صحیح سمت میں لے جا سکیں۔


مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کالی کٹ کے صدر ڈاکٹر پی اے فضل غفور نے بھی مولانا محمد علی جوہر اور دیگر مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے ملک کے موجودہ ماحول پر اظہار خیال کیا۔ صحافی سہیل انجم نے پروگرام کی نظامت کی۔


اس موقع پر آدرش شاستری، پروفیسر ارتضی کریم، پوفیسر فیضان مصطفی، ڈاکٹر پی اے فضل غفور، انجم عثمانی، محمد عارف، پروفیسر زویا حسن اور سلیم صدیقی کو مختلف میدانوں میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دیے گئے۔ پروفیسر زویا حسن کو بی اماں ایوارڈ اور سلیم صدیقی کو ایم سلیم میموریل ایوارڈ دیا گیا۔ مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی کے بانی ایم سلیم کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ آخر میں ندیم احمد، جنرل سکریٹری اکیڈمی نے شرکا اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

First published: Dec 11, 2015 04:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading