உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    27 سالہ رضیہ سلطان بہار پولیس کی پہلی خاتون مسلم ڈی ایس پی مقرر

    Image posted on Twitter by @Nawazkhaki

    Image posted on Twitter by @Nawazkhaki

    رضیہ سلطان جو بہار کے گوپال گنج ضلع کے ہتھوہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے اپنے کارنامے سے تاریخ رقم کی ہے۔ بہار پولیس میں ڈی ایس پی کے عہدے کے لئے کل 40 امیدواروں کا انتخاب کیا گیا ہے اور ان میں راضیہ بھی شامل ہے۔ 27 سالہ راضیہ اس وقت بہار حکومت کے محکمہ بجلی میں اسسٹنٹ انجینئر کی حیثیت سے تعینات ہے۔

    • Share this:
      پٹنہ : ایک 27 سالہ مسلم لڑکی رضیہ سلطان (Razia Sultan) نے بہار پولیس فورس (Bihar Police force) میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (Deputy Superintendent of Police) کے عہدے کے لیے پہلی مسلم خاتون بننے والی 64 ویں بہار پبلک سروس کمیشن (64th Bihar Public Service Commission exam ) کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔ رضیہ سلطان جو بہار کے گوپال گنج ضلع کے ہتھوہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے اپنے کارنامے سے تاریخ رقم کی ہے۔ بہار پولیس میں ڈی ایس پی کے عہدے کے لئے کل 40 امیدواروں کا انتخاب کیا گیا ہے اور ان میں راضیہ بھی شامل ہے۔ 27 سالہ راضیہ اس وقت بہار حکومت کے محکمہ بجلی میں اسسٹنٹ انجینئر کی حیثیت سے تعینات ہے۔

      اپنے خاندان میں رضیہ کی والدہ اور 6 بہن بھائی ہیں ، جن میں ایک بھائی اور 5 بہنیں ہیں۔ اس کے والد محمد اسلم انصاری (Mohammed Aslam Ansari) جو جھارکھنڈ کے بوکارو اسٹیل پلانٹ میں بطور اسٹینو گرافر کے طور پر کام کرتے تھے، کا 2016 میں انتقال ہوگئی۔ رضیہ سلطان (Razia Sultan) نے بوکارو میں اپنی تعلیم مکمل کی اور اس کا کنبہ ابھی بھی وہاں مقیم ہے۔ سات بہن بھائیوں میں سے سب سے چھوٹی ، رضیہ بعد میں بجلی کے انجینئرنگ میں بی ٹیک مکمل کرنے کے لئے جودھ پور چلی گئیں۔ اس کی تمام بڑی بہنیں شادی شدہ ہیں، جبکہ اس کا بھائی اترپردیش کے جھانسی میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا ہے۔

      انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے رضیہ نے انکشاف کیا کہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں شرکت کرنا بچپن کا خواب تھا۔ اور ڈی ایس پی کے لئے منتخب ہونا اس کے لئے ایک خواب پورا ہوا تھا۔ 2017 میں بہار حکومت کے محکمہ بجلی میں شامل ہونے کے فورا بعد ہی رضیہ نے بی پی ایس سی امتحانات کی تیاری شروع کردی۔ وہ پولیس افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے میں بے حد پرجوش ہیں اور اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات کی اطلاع دی جائے۔

      گفتگو میں مزید بتایا کہ اس نے تعلیم کی کمی خاص طور پر مسلم معاشرے کی لڑکیوں میں کمی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ رضیہ نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے خوابوں کو پورا کرسکیں۔ رضیہ کا خیال ہے کہ برقعہ یا حجاب پہننا کوئی پابندی نہیں ہے اور اللہ انہیں ہر قسم کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی توفیق دیتا ہے۔

      رضیہ حال ہی میں COVID-19 سے صحت یاب ہوگئی ہیں اور انہوں نے مسلم یونیورسٹی سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے متعلق خوف اور افواہوں کو دور کرنے کی اپیل کی تھی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: