உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوپی لوک آیکت بننے کی دوڑ میں شامل تھے 30 مردہ جج

    لکھنئو۔ یوپی میں لوک آیکت کی تقرری کو لے کر ایک سال سے چل رہی سیاست بدستور جاری ہے۔

    لکھنئو۔ یوپی میں لوک آیکت کی تقرری کو لے کر ایک سال سے چل رہی سیاست بدستور جاری ہے۔

    لکھنئو۔ یوپی میں لوک آیکت کی تقرری کو لے کر ایک سال سے چل رہی سیاست بدستور جاری ہے۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:
      لکھنئو۔ یوپی میں لوک آیکت کی تقرری کو لے کر ایک سال سے چل رہی سیاست بدستور جاری ہے۔ لیکن اب جو انکشاف ہوا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ اکھلیش حکومت اور اپوزیشن یوپی میں لوک آیکت کی تقرری کو لے کر کس قدر سنجیدہ تھی۔

      انڈین ایکسپریس میں شائع خبر کے مطابق، ایک سال پہلے شروع ہوئی لوک آیکت کی تقرری کا عمل بہت چونکانے والا تھا۔ انڈین ایکسپریس کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق جب وزیر اعلی اکھلیش یادو اور اپوزیشن لیڈر سوامی پرساد موریا نے 28 جنوری 2015 کو لوک آیکت سلیکشن کمیٹی کے اجلاس میں حصہ لیا تو ان کے سامنے جو ناموں کی فہرست تھی اس میں 30 ایسے ججوں کے نام بھی تھے جو اب اس دنیا میں ہیں بھی نہیں۔ ان ناموں میں سے سب سے زیادہ عمر کے جو جج تھے وہ 1951 میں ہی ریٹائر ہو چکے تھے۔

      لوک آیکت کی تقرری کے لئے جو لسٹ سلیکشن کمیٹی کے پاس بھیجی گئی تھی اس میں کل 396 ججوں کے ناموں پر غور کیا جانا تھا۔ اس میں 41 سابق چیف جسٹس آف انڈیا کے نام تھے جبکہ 28 نام ایسے تھے جو موجودہ وقت میں سپریم کورٹ کے جج ہیں۔ اس کے علاوہ 150 سپریم کورٹ کے سابق جج، الہ آباد ہائی کورٹ کے 76 موجودہ اور 101 سابق ججوں کے نام شامل تھے۔

      آپ کو بتا دیں کہ 16 دسمبر 2015 کو سپریم کورٹ نے کسی بھی نام پر اتفاق نہ بننے کی صورت میں ریٹائرڈ جسٹس وریندر سنگھ کو یوپی کا لوک آیکت مقرر کر دیا تھا۔ لیکن الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے اعتراض کے بعد ان کی حلف برداری کی تقریب کو 19 جنوری تک کے لئے ٹال دیا گیا تھا۔ حالانکہ وریندر سنگھ کے نام پر وزیر اعلی اور اپوزیشن لیڈر سومیہ پرساد موریہ کا اتفاق رائے تھا۔
      First published: